Skip to main content

Posts

Showing posts from August, 2014

Zehen se dil ka baar utra hy

      ذہن سے دل کا بار اترا ہے     پیر ہن تار تار اترا ہے     ڈوب جانے کی لذّتیں مت پوچھ     کون ایسے میں پار اترا ہے؟     ترک مئے کر کے بھی بہت پچھتائے     مدّتوں میں خُمار اترا ہے     دیکھ کر میرا دشتِ تنہائی     رنگِ رُوئے بہار اترا ہے     پچھلی شب چاند میرے ساغر میں     .......پے بہ پے، بار بار اترا ہے

Wo dil main mere ghaat laga kar he rahe ga

وہ دل میں مرے گھات لگا کر ہی رہے گا جذبات میں ہلچل سی مچا کر ہی رہے گا ہر بات میں تکرار کی عادت کے سبب وہ رشتے میں کوئی چھید بنا کر ہی رہے گا کہتا ہے، مجھے چاند کو چھونے کی ہے خواہش اک روز زمیں پر اسے لا کر ہی رہے گا کچا ہے گھروندا مرا، بادل بھی ہے ضد میں لگتا ہے کوئی کام دکھا کر ہی رہے گا گرتی ہے تو سو بار گرے، اُس کی بلا سے وہ ریت کی دیوار بنا کر ہی رہے گا شک روگ ہے یہ دل کو اگر چھو لے تو سمجھو  ............ بُنیاد وہ اس گھر کی ہلا کر ہی رہے گا

Anchal ko ghonghat kar jana ab ke bar jo awo tum

آنچل کو گھونگٹ کر جانا اب کی بار جو آؤ تم مانگ میں خود سیندور لگانا اب کی بار جو آؤ تم کان کا بالا چھیڑ رہا ہے گال کو ہولے ہولے سے اس کو محبت سے سجانا اب کی بار جو آؤ تم دیکھ کے اپنی سونی کلائی، مَن میں ہوک سی اُٹھتی ہے چوڑیاں اور کنگن پہنانا اب کی بار جو آؤ تم نٹ کھٹ سکھیاں چھیڑتی ہیں کہ ساجن تم کو بھول گیا دیکھو اُن کو خوب ستانا اب کی بار جو آؤ تم کاگا چھت پر روز سے بولے، آنگن پھر بھی سُونا ہے دیکھو اب واپس مت جانا اب کی بار جو آؤ تم لٹ اُلجھی نے ماتھے کی بندیا کو بھی الجھا ڈالا  ........ جُلمی، اس کو بھی سُلجھانا، اب کی بار جو آؤ تم