Skip to main content

Posts

Showing posts with the label Bano Qudsia

Taqdeer

soch do tarha ki hote hay

سوچ دو طرح کی ہوتی ہے، ایک سوچ علم سے نکلتی ہے اور ریگستان میں جا کر سوکھتی ہے۔ دوسری سوچ وجدان سے جنم لیتی ہے اور باغ کے دہانے پر لے جاتی ہے۔ ان ہی دو قسم کے خیالات سے دو طرح کا رہنا سہنا جنم لیتا ہے۔ ایک رہنا سہنا علم اور تجویز سے جنم لیتا ہے، اس میں چاقو، چھری، مقدمہ، بحث مباحثے، کس بل، حق حقوق، چھینا جھپٹی، کرودھ، کام، ہنکار سب ہوتا ہے۔ دوسرا رہنا سہناایک اور قسم کی سوچ سے نکلتا ہے۔ اس میں وجدان، شانتی، امن، پرسچت، پریم کی وجہ سے ہمیشہ ہجرت کا سماں رہتا ہے۔ اسی وجدان کی وجہ سے ایسی سوچ والے لوگ غریبی میں امیر اور امیری میں غریب دکھائی دیتے ہیں۔ بانو قدسیہ

Nashukra

اللہ تعالیٰ شاکی ہے کہ اتنی نعمتوں کے باوجود آدم کی اولاد ناشکری ہے اور انسان ازل اور ابد تک پھیلے ہوئے خدا کے سامنے خوفزدہ کھڑا بلبلا کر کہتا ہے ۔ یا باری تعالیٰ ! تیرے جہاں میں آرزوئیں اتنی دیر سے کیوں پوری ہوتی ہیں ؟ زندگی کے بازار میں ہر خوشی اسمگل ہو کر کیوں آتی ہے ؟ اس کا بھاؤ اس قدر تیز کیوں ہوتا ہے کہ ہر خریدار اسے خریدنے سے قاصر نظر آتا ہے ۔ ہر خوشی کی قیمت اتنے ڈھیر سارے آنسوؤں سے کیوں ادا کرنا پڑتی ہے ۔آقائے دوجہاں ایسے کیوں ہوتا ہے کہ جب بالاآخر خوشی کا بنڈل ہاتھ میں آتا بھی ہے تو اس بنڈل کو دیکھ کر انسان محسوس کرتا ہے کہ دکاندار نے اُسے ٹھگ لیا ہے۔ جو التجا کی عرضی تجھ تک جاتی ہے اُس پر ارجنٹ لکھا ہوتا ہے اور جو مُہر تیرے فرشتے لگاتے ہیں اُس کے چاروں طرف صبر کا دائرہ نظر آتا ہے۔ ایسا کیوں ہے باری تعالیٰ ؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟ جس مال گاڑی میں تو انسانی خوشی کے بنڈل روانہ کرتا ہے وہ صدیوں پہلے چلتی ہے اور قرن بعد پہنچتی ہے لوگ اپنے اپنے نام کی بُلٹی نہیں چھڑاتے بلکہ صدیوں پہلے مر کھپ گئی ہوئی کسی قوم کی خوشی کی کھیپ یوں آپس میں بانٹ لیتے ہیں جیسے سیلاب زدگان امدادی فنڈ کے س...