Skip to main content

Posts

Showing posts with the label Ibn-e-Insha

Ek chota sa larka ta main jin dinon

ایک چھوٹا سا لڑکا تھا میں جن دنوں ایک میلے میں پہنچا ہمکتا ہُوا جی مچلتا تھا ایک اک شے پر مگر جیب خالی تھی، کچھ مول لے نہ سکا۔ لوٹ آیا لئے حسرتیں سینکڑوں ایک چھوٹا سا لڑکا تھا میں جن دنوں۔ خیر محرومیوں کے وہ دن تو گئے۔ آج میلہ لگا ہے اسی شان سے آج چاہوں تو ایک اک دکان مول لوں۔ آج چاہوں تو سارا جہاں مول لوں۔ نارسائی کا اب جی میں دھڑکا کہاں! پر وہ چھوٹا سا، الہڑ سا لڑکا کہاں!!

Hal dil jis ne suna garya kya

حال دل جس نے سنا گریہ کیا ہم نہ روئے ہا ں ترا کہنا کیا یہ تو اک بے مہر کا مذکورہ ہے تم نے جب وعدہ کیا ایفا کیا پھر کسی جان وفا کی یاد نے اشک بے مقدور کو دریا کیا تال دو نینوں کے جل تھل ہو گئے ابر رسا اک رات بھر برسا کیا دل زخموں کی ہری کھیتی ہوئی کام ساون کا کیا اچھا کیا آپ کے الطاف کا چرچا کیا ہاں دل بے صبر نے رسوا کیا ابن انشاء

Lab par kisi ka bhi ho dil main tera naqsha hay

لب پر کسی کا بھی ہو، دل میں تیرا نقشا ہے اے تصویر بنانے والی، جب سے تجھ کو دیکھا ہے بے ترے کیا وحشت ہم کو، تجھ بن کیسا صبر و سکوں تو ہی اپنا شہر ہے جانی تو ہی اپنا صحرا ہے نیلے پربت، اودی دھرتی، چاروں کوٹ میں تو ہی تو تجھ سے اپنے جی خلوت، تجھ سے من کا میلا ہے آج تو ہم بکنے کو آئے، آج ہمارے دام لگا یوسف تو بازار وفا میں ایک ٹکے کو بکتا ہے لے جانی اب اپنے من کے پیراہن کی گرہیں کھول لے جانی اب آدھی شب ہے چار طرف سناٹا ہے طوفانوں کی بات نہیں ہے، طوفاں آتے جاتے ہیں تو اک نرم ہوا کا جھونکا، دل کے باغ میں ٹھہرا ہے یا تو آج ہمیں اپنا لے یا تو آج ہمارا بن دیکھ کہ وقت گزرتا جائے، کون ابد تک جیتا ہے شاعر: ابن انشاء

Ay dil walo ghar se neklo,daita dawat e aam hy chand

اے دل والو گھر سے نکلو، دیتا دعوتِ عام ہے چاند شہروں شہروں، قریوں قریوں وحشت کا پیغام ہے چاند تو بھی ہرے دریچے والی، آ جا بر سر ِبام ہے چاند ہر کوئی جگ میں خود سا ڈھونڈے، تجھ بن بسے آرام ہے چاند سکھیوں سے کب سکھیاں اپنے جی کے بھید چھپاتی ہیں ہم سے نہیں تو اس سے کہہ دے، کرتا کہاں کلام ہے چاند جس جس سے اسے ربط رہا ہے اور بھی لوگ ہزاروں ہیں ایک تجھ ہی کو بے مہری کا دیتا کیوں الزام ہے چاند وہ جو تیرا داغ ِغلامی ماتھے پر لئے پھرتا ہے اس کا نام تو انشا ٹھہرا، ناحق کو بدنام ہے چاند ہم سے بھی دو باتیں کر لے کیسی بھیگی شام ہے چاند سب کچھ سن لے آپ نہ بولے، تیرا خوب نظام ہے چاند ہم اس لمبے چوڑے گھر میں شب کو تنہا ہوتے ہیں دیکھ کسی دن آ مل ہم سے، ہم کو تجھ سے کام ہے چاند اپنے تو دل کے مشرق و مغرب اس کے رخ سے منوّر ہیں بے شک تیرا روپ بھی کامل، بے شک تو بھی تمام ہے چاند تجھ کو تو ہر شام فلک پر گھٹتا بھڑتا دیکھتے ہیں اس کو دیکھ کے عید کریں گے، اپنا اور اسلام ہے چاند ابن ِانشا

Mandakon ka badshah

ایک بار مینڈکوں نے خدا سے دعا کی کہ ہا پروردگار ہمارے لئے کوئی بادشاہ بھیج۔ باقی سب مخلوقات کے بادشاہ ہیں، ہمارا کوئی بھی نہیں ہے۔ خداوند نے انکی سادہ لوحی پر نظر کرتے ہوئے لکڑی کا ایک کندہ جوہڑ میں پھینکا۔ بڑے زوروں کے چھینٹے اڑے، پہلے تو سب ڈر گئے، تھوڑی دیر بعد یہ دیکھ کر کہ وہ لمبا لمبا پڑا ہے، ڈرتے ڈرتے قریب آئے۔ پھر اس پہ چڑھ گئے اور ٹاپنے لگے۔ چند دن بعد دوبارہ خداوند کو عرضی دی کی یہ بادشاہ ہمیں پسند نہیں آیا، کوئی اور بھیج جو ہمارے شایانِ شان ہو۔ خداوند نے ناراض ہو کر ایک سمندری سانپ بھیج دیا، وہ آتے ہی بہتوں کو چَٹ کر گیا، باقی کونے کھدروں میں جا چھپے۔ اس حکایت کا نتیجہ قارئین کرام آپ خود ہی نکالیے۔ آخر آپ خود بھی سمجھ دار ہیں۔ ۔۔۔ ابنِ انشاء ۔۔۔

Hisab ke char qaeday..

حساب کے چار بڑے قاعدے ہيں جمع، تفريق، ضرب، تقسيم پہلا قاعدہ : جمع جمع کے قاعدے پر عمل کرنا آسان نہيں خصوصا مہنگائي کے دنوں میں سب کچھ خرچ ہوجاتا ہے کچھ جمع نہيں ہوپاتا جمع کا قاعدہ مختلف لوگوں کيلئے مختلف ہے عام لوگوں کيلئے ١+١ = 1 1/2 کيونکہ 1/2 انکم ٹيکس والے لے جاتے ہيں تجارت کے قاعدے سے جمع کرائيں تو 1+1 کا مطلب ہے گيارہ رشوت کے قاعدے سے حاصل جمع اور زيادہ ہوجاتا ہے قاعدہ وہي اچھا جس ميں حاصل جمع زيادہ آئے بشرطيکہ پوليس مانع نہ ہو ايک قاعدہ زباني جمع خرچ کا ہوتا ہے يہ ملک کے مسائل حل کرنے کا کام آتا ہے آزمودہ ہے ۔۔۔ ابن انشاء ۔۔۔