Skip to main content

Posts

Showing posts with the label Habib Jalib Shayari

Mehtab sifat log yahan khak basar hain

مہتاب صفت لوگ یہاں خاک بسر ہیں ہم محو تماشائے سرِ راہ گزر ہیں حسرت سی برستی ہے در و بام پہ ہر سو روتی ہوئی گلیاں ہیں سسکتے ہوئے گھر ہیں آئے تھے یہاں جن کے تصور کے سہارے وہ چاند، وہ سورج، وہ شب و روز کدھر ہیں سوئے ہو گھنی زلف کے سائے میں ابھی تک اے راہ رواں کیا یہی اندازِ سفر ہیں وہ لوگ قدم جن کے لئے کاہکشاں نے وہ لوگ بھی اے ہم نفسو ہم سے بشر ہیں بِک جائیں جو ہر شخص کے ہاتھوں سرِ بازار ہم یوسفِ کنعاں ہیں نہ ہم لعل و گہر ہیں ہم لوگ ملیں گے تو محبت سے ملیں گے ہم نزہتِ مہتاب ہیں ہم نورِ سحر ہیں حبیب جالب

ab tari zarorat bhi buht kam hay mari jaan

اب تیری ضرورت بھی بہت کم ہے مری جاں، اب شوق کا کچھ اور ہی عالم ہے مری جاں، اب تذکرہء خندہء گل بار ہے جی پر، جاں وقفِ غمِ گریہء شبنم ہے مری جاں، رخ پر ترے بکھری ہوئی یہ زلفِ‌سیہ تاب، تصویر پریشانیِ عالم ہے مری جاں، یہ کیا کہ تجھے بھی ہے زمانے سے شکایت، یہ کیا کہ تری آنکھ بھی پر نم ہے مری جاں، ہم سادہ دلوں پر یہ شبِ غم کا تسلط، مایوس نہ ہو اور کوئی دم ہے مری جاں، یہ تیری توجہ کا ہے اعجاز کہ مجھ سے، ہر شخص ترے شہر کا برہم ہے مری جاں، اے نزہتِ مہتاب ترا غم ہے مری زیست، اے نازشِ خورشید ترا غم ہے مری جاں۔ حبیب جالب

Main Nahi manta main nahi janta