Skip to main content

Posts

Showing posts with the label Mohsin Naqvi Shayari

Bus ek shakhs he kul kainat ho jaisy

بس اِک شخص ہی کُل کائنات ہو جیسے نظر نہ آۓ تو دن میں بھی رات ہو جیسے میرے لبوں پہ تبسم موجزن ہے اب تک کہ دل کاٹوٹنا چھوٹی سی بات ہو جیسے شبِ فراق مجھےآج یوں ڈراتی ہے تیرے بغیر میری پہلی رات ہو جیسے اُسکی یاد کی یہ بھی تو ایک کرامت ہے ہزار میل پہ ہو کہ بھی ساتھ ہو جیسے تیرا سلوک مجھے روز زخم تازە دے کسی کو پہلی محبت میں مات ہو جیسے ہمارے دل کو کوئ مانگنے نہ آیا محسن کسی "غریب" کی بیٹی کا ہاتھ ہو جیسے

Main aeena ta wo mera khyal rakti thi

شاعر : محسن نقوی ~~~~~~~~~~~~~ میں آئینہ تھا ، وہ میرا خیال رکھتی تھی میں ٹوٹتا تھا تو چن کر سنبھال رکھتی تھی میں جب بھی ترک تعلق کی بات کرتا تھا ، وہ روکتی تھی مجھے ، کل پے ٹال رکھتی تھی وہ میرے درد کو چنتی تھی اپنی پوروں سے وہ میرے واسطے خود کو نڈھال رکھتی تھی وہ ڈوبنے نہیں دیتی تھی دکھ کے دریا میں میرے وجود کی ناؤ اچھال رکھتی تھی دعائیں اس کی بلائو کو روک لیتی تھیں وہ میرے چار سو ہاتھوں کی ڈھال رکھتی تھی اک ایسی دھن کے نہیں پھر کبھی میں نے سنی وہ منفرد سا ہنسی میں کمال رکھتی تھی اسے ندامتیں میری کہاں گوارہ تھیں وہ میرے واسطے آسان سوال رکھتی تھی بچھڑ کے اس سے میں دنیا کی ٹھوکروں میں ہوں محسن وہ پاس تھی تو مجھے لازوال رکھتی تھ ی

Maqrooz ke beghre hoye halat ke maneend

مقروض، کہ بگڑے ہوئے حالات کی مانند                         مجبور، کہ ہونٹوں پہ سوالات کی مانند دل کا تیری چاہت میں عجب حال ہوا ہے سیلاب سے برباد، مکانات کی مانند میں ان میں بھٹکے ہوئے جگنو کی طرح ہوں اس شخص کی آنکھیں ہیں کسی رات کی مانند دل روز سجاتا ہوں میں دُلہن کی طرح سے غم روز چلے آتے ہیں بارات کی مانند اب یہ بھی نہیں یاد کہ کیا نام تھا اس کا جس شخص کو مانگا تھا مناجات کی مانند کس درجہ مقدّس ہے تیرے قرب کی خواہش معصوم سے بچے کے خیالات کی مانند اس شخص سے ملنا محسنؔ میرا ممکن ہی نہیں ہے میں پیاس کا صحرا ہوں، وہ برسات کی مانند محسنؔ نقوی

Kuch dil ka laho pee ke bhi faslay hoye shadab

محسن نقوی کچھ دل کا لہو پی کے بھی فصلیں ہوئیں شاداب کچھ یوں بھی زمیں گاؤں کی زرخیز بہت ہے بولے تو سہی، جھوٹ ہی بولے وہ بلا سے ظالم کا لب و لہجہ ــــــــــ دل آویز بہت ہے کیا اس کے خدوخال کھلیں اپنی غزل میں وہ شہر کے لوگوں میں کم آمیز بہت ہے محسنؔ اسے ملنا ہے تو دکھنے دو یہ آنکھیں کچھ اور بھی جاگو کہ وہ "شب خیز" بہت ہ ے

tera khayal agar juzo zindagi na rahy

تیرا خیال اگر جزو زندگی نہ رہے جہاں میں میرے لیے کوئی دلکشی نہ رہے میں آ گیا ہوں وہاں تک تیری تمنا میں جہاں سے کوئی بھی امکان واپسی نہ رہے تو ٹھیک کہتا ہے اے یار ٹھیک کہتا ہے کہ ہم ہی قابل تجدید عاشقی نہ رہے حضور یاد ہے میدان حشر کا وعدہ کہیں وہاں بھی میری آنکھ ڈھونڈتی نہ رہے تیرے ہجر کا موسم عذاب ہے محسن کبھی کبھی تو میں کہتا ہوں زندگی نہ رہے محسن نقوی

qatal chupte te khabi sang ki dewaar ki beach

قتل چھپتے تھے کبھی سنگ کی دیوار کے بیچ اب تو کھلنے لگے مقتل بھرے بازار کے بیچ اپنی پوشاک کے چھن جانے پہ افسوس نہ کر سر سلامت نہیں رہتے یہاں دستار کے بیچ سرخیاں امن کی تلقین میں مصروف رہیں حرف بارود اگلتے رہے اخبار کے بیچ کاش اس خواب کی تعبیر کی مہلت نہ ملے شعلے اگتے نظر آئے مجھے گلزار کے بیچ ڈھلتے سورج کی تمازت نے بکھر کر دیکھا سر کشیدہ مرا سایا صف اشجار کے بیچ رزق، ملبوس ، مکاں، سانس، مرض، قرض، دوا منقسم ہو گیا انساں انہی افکار کے بیچ دیکھے جاتے نہ تھے آنسو مرے جس سے محسن آج ہنستے ہوئے دیکھا اسے اغیار کے بیچ

laghrishon se mawara tu bhi nahi main bhi nahi

لغزشوں سے ماورا تو بھی نہیں میں بھی نہیں دونوں انساں ہیں خدا تو بھی نہیں میں بھی نہیں تو جفا کی میں وفا کی راہ پر ہیں گامزن پیچھے مڑ کر دیکھتا تو بھی نہیں میں بھی نہیں تو مجھے میں تجھے الزام دھرتا ہوں اپنے من میں جھانکتا تو بھی نہیں میں بھی نہیں مصلحت نے کر دیے دونوں میں پیدا اختلاف ورنہ فطرت کا برا تو بھی نہیں میں بھی نہیں بد گمانی شہر میں کس نے پھیلا دی جبکہ ایک دوسرے سے خفا تو بھی نہیں میں بھی نہیں جرم کی نوعیتو ں میں کچھ تفاوت ہو تو ہو در حقیقت پارسا تو بھی نہیں میں بھی نہیں جان محسن تو بھی تھا ضدی انا مجھ میں بھی تھی دونوں خودسر تھے جھکا تو بھی نہیں میں بھی نہیں محسن نقوی

Khalwat main kula hum pe ke bebak te wo bhi

خلوت میں کھلا ہم پہ کہ بیباک تھی وہ بھی محتاط تھے ہم لوگ بھی، چالاک تھی وہ بھی افکار میں ہم لوگ بھی ٹھہرے تھے قد آور پندار میں "ہم قامتِ افلاک" تھی وہ بھی اسے پاس ِادب، سنگِ صفت عزم تھا اس کا اسے سیل طلب، صورتِ خاشاک تھی وہ بھی جس شب کا گریباں تیرے ہاتھوں سے ہوا چاک اے صبح کے سورج، میری پوشاک تھی وہ بھی اک شوخ کرن چومنے اتری تھی گلوں کو کچھ دیر میں پیوستِ رگِ خاک تھی وہ بھی جس آنکھ کی جنبش پہ ہوئیں نصب صلیبیں مقتل میں ہمیں دیکھ کے نمناک تھی وہ بھی دیکھا جو اسے، کوئی کشش ہی نہ تھی اس میں سوچا جو اسے، حاصل اور ادراک تھی وہ بھی جو حرف میرے لب پہ رہا زہر تھا محسن جو سانس میرے تن میں تھی سفّاک تھی وہ بھی محسن نقوی

Mohabbaton main hawas ke aseer hum bhi nahi

محبتوں میں ہوس کی اسیر ہم بھی نہیں غلط نہ جان کہ اتنے حقیر ہم بھی نہیں نہیں ہو تم بھی قیامت کی تند و تیز ہوا!! کسی کے نقشِ قدم کی لکیر ہم بھی نہیں ہماری ڈوبتی نبضوں سے زندگی تو نہ مانگ سخی تو ہیں مگراتنے امیر ہم بھی نہیں کرم کی بھیک نہ دے اپنا تخت بخت سنبھال ضرورتوں کا خدا تُو،فقیر ہم بھی نہیں شبِ سیاہ کے "مہمان دار" ٹھہرے ہیں وَگرنہ تیرگیوں کے سفیر ہم بھی نہیں ہمیں بُجھا دے ہماری انا کو قتل نہ کر کہ بے ضرر ہی سہی،بے ضمیر ہم بھی نہیں محسن نقوی

Kab tak tu onchi awaz main bolyga...

کب تک تو اونچی آواز میں بولے گا تیری خاطر کون دریچہ کھولے گا اپنے آنسو اپنی آنکھ میں رہنے دے ریت پہ کب تک ہیرے موتی رولے گا آؤ شہر کی روشنیاں ہی دیکھ آئیں کون ہماری خالی جیب ٹٹولے گا لاکھ میرے ہونٹوں پر چُپ کی موہریں ہوں میرے اندر کا فنکار تو بولے گا دیکھ وہ اپنی میٹھی میٹھی باتوں سے اپنا سارا زہر تجھ ہی میں گھولے گا اے سوداگر چاہت کی جاگیروں کے کس میزان میں تو اس جنس کو تولے گا محسن اس کی نرم طبیعت کہتی ہے پل دو پل وہ میرے ساتھ بھی ہولے گا

Yaad-e-maazi main jo ankhon ko saza di jaye

Yaad-e-maazi main jo ankhon ko saza di jaye is say behtar hai k har bat bhula di jye  jis sy thori si bhi umeed zyda ho kabhi aisi har shama sar-e-sham jala di jaaey main nay apnon k rawayyon say ye mehsoos kya dill k angan main bhi diwar utha di jaye main nay yaron k bicharnay say ye seekha "Mohsin" apny dushman ko bhi jeny ki dua di jaye..

Sakoot-e-Sham main goonji sada udasi ki

Sakoot-e-Sham main goonji sada udasi ki K hai mazeed udasi dawa udaasi ki Amoor-e-Dil main, Kisi teesre ka dakhal nahi Yahan faqat tere chalti hai ya udaasi ki Bohat shareer tha main or hansta phirta tha Phir ik faqeer ne de di dua udaasi ki Chiragh-e-Dil ko zara ehtiyaat se rakhna K aaj raat chale gi hawa udaasi ki Bohat Dino se mulakaat hi nahi "Mohsin" Kahin se kher khabar le k aa udassi ki

Itni muddat baad mile ho!

  Itni muddat baad mile ho! Kin sochon main gum rehte ho? Itne khayef kyon rehte ho? Her aahat se darr jaate ho Taiz hawa ne mujh se poocha Rait pe kya likhte rehte ho? Kaash koi humse bhi pooche Raat gaye tuk kyon jaage ho? Main darya se bhi darta hoon Tum darya se bhi gehre ho! Koun si baat hai tum main aisi Itne ache kyon lagte ho? Peeche mur ker kyon dekha tha Patthar ban ker kya takte ho? Jaao jeet ka jashan manaao! Main jhoota hoon, tum suche ho Apne sheher ke sub logon se Meri khatir kyon uljhe ho? kehne ko rehte ho dil main! Phir bhi kitne door khare ho Raat humain kuch yaad nahin tha Raat bohot hi yaad aaye ho Humse na poocho hijr ke qisse Apni kaho ab tum kaise ho? Mohsin tum badnaam bohot ho Jaise ho, phir bhi ache ho.

wo de rha hay dalasy to umer bar ke mujay..

وہ دے رہا ہے دلاسے تو عمر بھر کے مجھے بچھڑ نہ جائے کہیں پھر اُداس کر کے مجھے جہاں نہ تُو، نہ تیری یاد کے قدم ہونگے ڈرا رہے ہیں وہی مرحلے سفر کے مجھے ہواِ دشت مجھے اب تو اجنبی نہ سمجھ کہ اب تو بھول گئے راستے بھی گھر کے مجھے دل ِتباہ ترے غم کو ٹالنے کے لئے سنا رہا ہے فسانے اِدھر اُُدھر کے مجھے کچھ اِس لئے بھی میں اُس سے بچھڑ گیا مُحسن وہ دُور دُور سے دیکھے ٹھہر ٹھہر کے مجھے

Aaj gum sum hy jo barbad jazeeron jesi

  Aaj gum sum hy jo barbad jazeeron jesi us ki ankhon mein chamak thi kabi heeron jaisi kitny maghror paharon k badan chak hoay taiz kirnon ki jo barish hoi teeron jaisi jis ki yadon sy khiyalon k khazeny dehky uski soorat b lagi aaj faqeron jaisi chahtein lab pe, machalti hoi larki ki tarah hasratein ankh mein zindaan k aseeron jaisi ham ana mast, tahi dast bahut hain MOHSIN ye alag bat k adat hy ameeron jaisi...!!!

wo dil ka bura na bewafa ta

وہ دل کا برا نہ بے وفا تھا بس مجھ سے یونہی بچھڑ گیا تھا لفظوں کی حدوں سے ماوراء تھا اب کس سے کہوں وہ شخص کیا تھا وہ میری غزل کا آئینہ تھا ہر شخص یہ بات جانتا تھا ہر سمت اُسی کا تذکرہ تھا ہر دل میں وہ جیسے بس رہا تھا میں اُس کی انا کا آسرا تھا وہ مجھ سے کبھی نہ روٹھتا تھا میں دھوپ کے بن میں جل رہا تھا وہ سایۂ ابر بن گیا تھا میں بانجھ رتوں کا آشنا تھا وہ موسمِ گُل کا ذائقہ تھا اک بار بچھڑ کے جب ملا تھا وہ مجھ سے لپٹ کے رو پڑا تھا کیا کچھ نہ اُسے کہا گیا تھا اُس نے تو لبوں کو سی لیا تھا وہ چاند کا ہمسفر تھا شائد راتوں کو تمام جاگتا تھا ہونٹوں میں گُلوں کی نرم خوشبو باتوں میں تو شہد گھولتا تھا کہنے کو جدا تھا مجھ سے لیکن وہ میری رگوں میں گونجتا تھا اُس نے جو کہا کیا وہ دل نے انکار کا کس میں حوصلہ تھا یوں دل میں تھی یاد اُس کی جیسے مسجد میں چراغ جل رہا تھا مت پوچھ حجاب کے قرینے وہ مجھ سے بھی کم ہی کُھل سکا تھا اُس دن مرا دل بھی تھا پریشاں وہ بھی میرے دل سے کچھ خفا تھا میں بھی تھا ڈرا ہوا سا لیکن رنگ اُس کا بھی کچھ اُڑا اُڑا تھا اک خوف سا ہجر کی رتوں کا دون...