Skip to main content

Posts

Showing posts with the label Ashfaq Ahmad

Sach ki talqeen

اماں کو میری بات ٹھیک سے سمجھ آ گئی. اُس نے اپنا چہرہ میری طرف کیے بغیر نئی روٹی بیلتے ھُوئے پُوچھا" تُو اپنی کتابوں میں کیا پیش کرے گا؟" میں نے تڑپ کر کہا ، " میں سچ لکھوں گا اَماں اور سچ کا پرچار کروں گا. لوگ سچ کہنے سے ڈرتے ھیں اور سچ سننے سے گھبراتے ھیں. میں انہیں سچ سناؤں گا اور سچ کی تلقین کروں گا. "میری ماں فکر مند سی ھو گئی. اُس نے بڑی دَردمندی سے مجھے غور سے دیکھا اور کوئیلوں پر پڑی ھُوئی روٹی کی پرواہ نہ کرتے ھُوئے کہا ،" اگر تُو نے سچ بولنا ھے تو اپنے بارے میں بولنا ، دُوسرے لوگوں کی بابت سچ بول کر اُن کی زندگی عذاب میں نہ ڈال دینا. ایسا فعل جُھوٹ سے بھی بُرا ھوتا ھے." "اشفاق احمد" "زاویہ" سے اقتباس

Mujadad alif sani

مجھے یاد آ گیا، حضرت مجدد الف ثانی (رحمۃ اللہ علیہ)- وہ بہت سخت ، اور اصولی بزرگ تھے ، لیکن ایک بات میں ان کی کبھی نہیں بھولتا - انھوں نے فرمایا : "جو شخص تجھ سے مانگتا ہے اس کو دے - کیا یہ تیری انا کے لئے کم ہے کہ کسی نے اپنا دست سوال تیرے آگے دراز کیا -" اس سلسلے میں ایک حدیث بھی ہے - اور عجیب و غریب بات انھوں نے یہ کی ہے کہ، "جو حق دار ہے اس کو بھی دے ، اور جو ناحق کا مانگنے والا ہے اس کو بھی دے - تاکہ جو تجھے ناحق کا مل رہا ہے کہیں وہ ملنا بند نہ ہو جائے -" (از اشفاق احمد - زاویہ ١ - دیے سے دیا)

Insan

انسان بڑی دلچسپ مخلوق ہے، یہ جانور کو مصیبت میں دیکھ کر برداشت نہیں کر سکتا لیکن انسان کو مصیبت میں مبتلا کر کے خوش ہوتا ہے ۔ یہ پتھر کے بتوں تلے ریشم اور بانات کی چادریں بچھا کر ان کی پوجا کرتا ہے ۔ لیکن انسان کے دل کو ناخنوں سے کھروچ کے رستا ہوا خون چاٹتا ہے ۔   انسان اپنی کار کے آگے گھٹنے ٹیک کر اس کا ماتھا پونچھتا اور اس کے پہلو چمکاتا ہے اور میلے کچیلے آدمی کو دھکے دے کر اس لیے پرے گرا دیتا ہے کہ کہیں ہاتھ لگا کر وہ اس مشین کا ماتھا نہ دھندلا کر دے ۔ انسان پتھروں سے مشینوں سے جانوروں سے پیار کر سکتا ہے انسانوں سے نہیں ۔ از اشفاق احمد

Zindagi

اشفاق احمد لکھتے ھيں : "زندگي ميں کوئ خوشی, کوئ رشتہ, کوئ جذبہ کبھی مستقل نہيں ھوتا. ان کے پاؤں ھوتے ھيں. ھمارا سلوک اور رويہ ديکھ کے کبھی يہ بھاگ کر قريب آ جاتے ھيں اور کبھی آھستہ آھستہ دور چلے جاتے ھيں" 

Muhabbat

محبت وہ شخص کر سکتا ہے جو اندر سے خوش ہو ۔ مطمئن ہو اور پر باش ہو ۔ محبت کوئی سہ رنگا پوسٹر نہیں کہ کمرے میں لگا لیا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ سونے کا تمغہ نہیں کہ سینے پر سجا لیا ۔ ۔ ۔۔ ۔ ۔پگڑی نہیں کہ خوب کلف لگا کر باندھ لی اور بازار میں آگئے طرہ چھورڑ کر ۔ محبت تو روح ہے ۔ ۔ ۔ آپ کے اندر کا اندر ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ آپ کی جان کی جان ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ محبت کا دروازہ صرف ان لوگوں پر کھلتا ہے جو اپنی انا اپنی ایگو اور اپنے نفس سے جان چھڑا لیتے ہیں ۔ من چلے کا سودا از اشفاق احمد سے اقتباس

Nafs ki fatha

اس میں کوئی شک نہیں کہ اپنے نفس کو فتح کرنا بہت مشکل کام ہے ۔ لیکن اس سے بڑی بھی اور کوئی حقیقت نہیں کہ اپنے نفس کے بجائے انسان اور کس شے کو فتح کر سکتا ہے ۔ ساتھ ساتھ یہ بھی سن لہ کہ جس نے اپنے نفس کو فتح کر لیا اس کے لیے باقی کی ساری چیزیں خودبخود مغلوب ہو گئیں ۔ اور یاد رکھو کہ اس دنیا میں بس ایک ہی فتح ہے اور ایک ہی شکست ۔ اپنے نفس سے اس کے ہاتھوں ہزیمت کھانا شکست ہے اور اپنے نفس پر اُسے کے ہاتھوں حکمرانی کرنا فتح ہے ۔ از اشفاق احمد

Maa

ایک چھوٹا بچہ جب رات کو سوتے ہوئے ڈر جاتا ہے اور جب اس کی ماں اسے سینے سے لگاتی ہے تو وہ دنیا و مافیہا سے بے خبر ہو کر یوں سکون سے اور ماں کے سینے سے چمٹ کر سوجاتا ہے جیسے ایک فوجی محاذِ جنگ میں اپنے ساتھیوں کے ساتھ مورچے میں خود کو محفوظ پاتا ہے ۔ آپ نے نیشنل جیوگرافک چینل پر کینگرو کے بچے کو کسی انجانے ڈر سے بھاگ کر اپنی ماں کی مخصوص تھیلی ، جو قدرت کا ایک عظیم شاہکار ہے، اس میں دبکتے ہوئے دیکھا ہوگا ۔ وہ نظارہ بڑا ہی قابلِ دید ہوتا ہے ۔ بلی جب اپنی معصوم سے ان کھلی آنکھوں والے بچے کو اپنی باچھوں میں اٹھا کر لے جا رہی ہوتی ہے تو پتہ چلتا ہے کہ مامتا کیا ہوتی ہے ۔ اس نے اپنے منہ میں اپنے بچے کو گردن سے دبوچا ہوتا ہے لیکن وہ بچہ کوئی پریشانی محسوس نہیں کر رہا ہوتا بلکہ کمفرٹ فیل کر رہا ہوتا ہے ۔ ماں کی اس پناہ گاہ کی تعریف کے لیے زبان ان لفظوں کی محتاج ہے جو اس کی عکاسی کر پائیں ۔ لیکن یہ ممکن نہیں ۔  زاویہ سوئم از زاشفاق احمد سے اقتباس

Muhabbbat krne wala shakhs

محبت وہ شخص کر سکتا ہے جو اندر سے خوش ہو ۔ مطمئن ہو اور پر باش ہو ۔ محبت کوئی سہ رنگا پوسٹر نہیں کہ کمرے میں لگا لیا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ سونے کا تمغہ نہیں کہ سینے پر سجا لیا ۔ ۔ ۔۔ ۔ ۔پگڑی نہیں کہ خوب کلف لگا کر باندھ لی اور بازار میں آگئے طرہ چھورڑ کر ۔ محبت تو روح ہے ۔ ۔ ۔ آپ کے اندر کا اندر ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ آپ کی جان کی جان ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ محبت کا دروازہ صرف ان لوگوں پر کھلتا ہے جو اپنی انا اپنی ایگو اور اپنے نفس سے جان چھڑا لیتے ہیں ۔  من چلے کا سودا از اشفاق احمد سے ایک اقتباس ************* *

2 rakat nafal

فرض کریں کہ کسی میں کوئی خرابی ہے محلے کا کوئی دوکاندار کم تولتا ہے ۔  ہیرا پھیری کرتا ہے تو بجائے اسے کچھ کہنےکے طعنہ دینے کے ، یا برا بھلا  کہنے کے ِاپنے گھر میں جائے نماز بچھا کر دو نفل پڑھیں اور خدا سے دعا کریں  کہ " اے اللہ تعالیٰ یہ نورا غفورا یا جو بھی دوکاندار ہے تو اس کی مدد کر اور اس میں سے فلاںخرابی نکال دے "۔ آپ کو سات دن نہیں لگیں گے میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ اس کا راستہ سیدھا  ہونےلگے گا اگر آپ اس کی ناک میں دم کریں گے اسے کوسنے دیں گے بے ایمان کہیں گےتو بات مزید خراب ہو جائے گی ۔ اشفاق احمد زاویہ 3 مسٹر بٹ سے اسلامی بم تک صفحہ 16 9

Aurat ki izzat

ﺍﺷﻔﺎﻕ ﺍﺣﻤﺪ ﺻﺎﺟﺐ ﺍﯾﮏ ﻭﺍﻗﻌﮧ ﺑﯿﺎﻥ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﮐﮧ ۔۔۔ ﺍﯾﮏ ﺩﻓﻌﮧ ﻟﻨﺪﻥ ﮐﮯ ﮐﺴﯽ ﭘﺎﺭﮎ ﻣﯿﮟ ﺍﭘﻨﯽ ﺯﻭﺟﮧ ﻣﺤﺘﺮﻣﮧ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺗﺸﺮﯾﻒ ﻓﺮﻣﺎ ﺗﮭﮯ ﮐﮧ ﺩﯾﮑﮭﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﭼﻨﺪ ﻟﻮﮒ ﺁﺋﮯ ۔۔۔ ﺳﻔﯿﺪ ﭘﮕﮍﯼ ﺑﺎﻧﺪﮬﮯ ﮨﻮﺋﮯ ۔۔ ﮐﻮﺋﯽ ﻋﺼﺮ ﮐﺎ ﻭﻗﺖ ﮨﻮ ﺭﮨﺎ ﺗﮭﺎ۔۔۔۔۔۔۔ﺗﻮ ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﺍﺳﯽ ﭘﺎﺭﮎ ﻣﯿﮟ ﺟﻤﺎﻋﺖ ﮐﺮﺍﺋﯽ ﺍﻭﺭ ﻋﺼﺮ ﮐﯽ ﻧﻤﺎﺯ ﭘﮍﮬﯽ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ﺍﯾﮏ ﺑﺮﭨﺶ ﻟﮍﮐﯽ ﺍﻧﮩﯿﮟ ﭨﮑﭩﮑﯽ ﺑﺎﻧﺪﮬﮯ ﺩﯾﮑﮫ ﺭﮨﯽ ﺗﮭﯽ ۔۔۔ ﺟﺐ ﺍﻥ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﻧﮯ ﻧﻤﺎﺯ ﺧﺘﻢ ﮐﯽ ﺗﻮ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ﻭﮦ ﻟﮍﮐﯽ ﺍﻥ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﮔﺌﯽ ﺍﻭﺭ ﭘﻮﭼﮭﺎ ۔۔۔۔۔۔ ﺟﻨﺎﺏ ﺁﭖ ﮐﻮ ﺍﻧﮕﻠﺶ ﺁﺗﯽ ﮨﮯ ؟؟؟ ۔۔ ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﺟﻮﺍﺏ ﺩﯾﺎ ۔۔۔ ﺟﯽ ﮨﺎﮞ ﺁﺗﯽ ﮨﮯ ۔۔۔۔۔ ﺗﻮ ﺍﻧﮕﻠﺶ ﻟﺮﮐﯽ ﻧﮯ ﭘﻮﭼﮭﺎ ۔۔۔۔ ﺁﭖ ﻟﻮﮒ ﯾﮧ ﮐﯿﺎ ﮐﺮ ﺭﮨﮯ ﺗﮭﮯ ؟ ۔۔ ﺗﻮ ﺍﻥ ﻟﻮﮔﻮﻥ ﻧﮯ ﺟﻮﺍﺏ ﺩﯾﺎ ۔۔ ﮨﻢ ﻋﺒﺎﺩﺕ ﮐﺮ ﺭﮨﮯ ﺗﮭﮯ ۔۔ ﺗﻮ ﺍﻧﮕﻠﺶ ﻟﮍﮐﯽ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ ۔۔۔ ﭘﺮ ﺁﺝ ﺗﻮ ﺍﺗﻮﺍﺭ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﮯ ؟؟ ﺗﻮ ﺍﻥ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ ۔۔ ﮐﮧ ﮨﻢ ﻣﺴﻠﻤﺎﻥ ﮨﯿﮟ ۔۔۔ ﺍﻭﺭ ﺩﻥ ﻣﯿﮟ ﭘﺎﻧﭻ ﻭﻗﺖ ﺍﺳﯽ ﻃﺮﺡ ﻋﺒﺎﺩﺕ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ۔ ﺗﻮ ﻭﮦ ﻟﮍﮐﯽ ﺑﮍﯼ ﻣﺘﺎﺛﺮ ﮨﻮﺋﯽ ۔۔۔۔ ﺍﺱ ﻧﮯ ﻣﺰﯾﺪ ﭼﻨﺪ ﺑﺎﺗﯿﮟ ﭘﻮﭼﮭﯿﮟ ۔۔ ﭘﮭﺮ ﺍﺱ ﻧﮯ ﺍﻥ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﮨﺎﺗﮫ ﺑﮍﮬﺎﯾﺎ ﮐﮧ ﭼﻠﯿﮟ ۔ ﺁﭖ ﺳﮯ ﮐﺎﻓﯽ ﺍﭼﮭﯽ ﻣﻼﻗﺎﺕ ﺭﮨﯽ ۔۔۔ ﺗﻮ ﺍﻥ ﮐﮯ ﺟﻮ ﺍﻣﯿﺮ ﺟﻮﺍﺏ ﺩﮮ ﺭﮨﮯ ﺗﮭﮯ ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﺍﺳﮯ ﺟﻮﺍﺏ ﺩﯾﺎ ۔۔۔ ...

Quran se aqeedat aur muhabbat

ﺁﭖ ﮐﺒﮭﯽ ﻓﺠﺮ ﮐﯽ ﻧﻤﺎﺯ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﮐﺴﯽ ﺍﻥ ﭘﮍﮪ ﻋﺎﻡ ﺳﮯ ﮐﭙﮍﮮ ﭘﮩﻨﮯ ﮐﺴﯽ ﺩﯾﮩﺎﺗﯽ ﮐﻮ ﺟﺴﮯ ﻭﺿﻮ ﺍﻭﺭ ﻏﺴﻞ ﮐﮯ ﻓﺮﺍﺋﺾ ﺳﮯ ﺑﮭﯽ ﺷﺎﯾﺪ ﭘﻮﺭﯼ ﻃﺮﺡ ﻭﺍﻗﻔﯿﺖ ﻧﮧ ﮨﻮ ﻭﮦ ﺟﺐ ﻧﻤﺎﺯ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﻗﺮﺁﻥ ﺷﺮﯾﻒ ﭘﮍﮬﻨﮯ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﮐﮭﻮﻟﮯ ﮔﺎ ﺗﻮ ﻗﺮﺁﻥ ﭘﺎﮎ ﮐﺎ ﻏﻼﻑ ﮐﮭﻮﻟﻨﮯ ﺳﮯ ﭘﮩﻠﮯ ﭘﮩﻠﮯ ﺩﻭ ﺑﺎﺭ ﺍﺳﮯ ﺁﻧﮑﮭﻮﮞ ﺳﮯ ﻟﮕﺎﺋﮯ ﮔﺎ ۔ ﺍﻭﺭ ﭼﻮﻣﮯ ﮔﺎ ۔ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺍﺱ ﭘﺎﮎ ﮐﺘﺎﺏ ﺳﮯ ﻋﻘﯿﺪﺕ ﺍﻭﺭ ﻣﺤﺒﺖ ﺩﯾﺪﻧﯽ ﮨﻮﺗﯽ ﮨﮯ ۔ ﻭﮦ ﻗﺮﺁﻥ ﭘﺎﮎ ﻣﯿﮟ ﻟﮑﮭﯽ ﻋﺮﺑﯽ ﮐﯽ ﺁﯾﺎﺕ ﮐﯽ ﻣﻌﺎﻧﯽ ﺳﮯ ﻭﺍﻗﻒ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺗﺎ ﻟﯿﮑﻦ ﻭﮦ ﺟﺲ ﻣﺤﺒﺖ ﺳﮯ ﺍﺳﮯ ﭘﮍﮪ ﺭﮨﺎ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ ﻭﮦ ﻗﺎﺑﻞِ ﺭﺷﮏ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ ۔ ﺍﺷﻔﺎﻕ ﺍﺣﻤﺪ ﺯﺍﻭﯾﮧ 3 ﻟﭽﮭﮯ ﻭﺍﻻ ﺻﻔﺤﮧ 2 9

Makhki

ﻣﯿﮟ ﻣﮑﮭﯽ ﻣﺎﺭﻧﮯ ﮐﯽ ﮐﻮﺷﺶ ﮐﺮ ﺭﮨﺎ ﺗﮭﺎ ۔ ﺍﺱ ﻟﯿﮯ ﻣﺠﮭﮯ ﺑﺎﺑﺎ ﺟﯽ ﮐﮯ ﺁﻧﮯ ﮐﺎ ﺍﺣﺴﺎﺱ ﮨﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺍ۔ ﺍﭼﺎﻧﮏ ﺍﻥ ﮐﯽ ﺁﻭﺍﺯ ﺳﻨﺎﺋﯽ ﺩﯼ ۔ﻭﮦ ﮐﮩﻨﮯ ﻟﮕﮯ ، ﯾﮧ ﺍﻟﻠﮧ ﻧﮯ ﺁﭖ ﮐﮯ ﺫﻭﻕِ ﮐﺸﺘﻦ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﭘﯿﺪﺍ ﮐﯽ ﮨﮯ ۔ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ ﺟﯽ ﯾﮧ ﻣﮑﮭﯽ ﮔﻨﺪ ﭘﮭﯿﻼﺗﯽ ﮨﮯ ﺍﺱ ﻟﯿﮯ ﻣﺎﺭ ﺭﮨﺎ ﺗﮭﺎ ۔ ﮐﮩﻨﮯ ﻟﮕﮯ ﯾﮧ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﮐﯽ ﺳﺐ ﺳﮯ ﺑﮍﯼ ﻣﺤﺴﻦ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺗﻢ ﺍﺳﮯ ﻣﺎﺭ ﺭﮨﮯ ﮨﻮ ۔ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ ﺟﯽ ﯾﮧ ﻣﮑﮭﯽ ﮐﯿﺴﮯ ﻣﺤﺴﻦ ﮨﮯ ؟ ﮐﮩﻨﮯ ﻟﮕﮯ ، ﯾﮧ ﺑﻐﯿﺮ ﮐﻮﺋﯽ ﮐﺮﺍﯾﮧ ﻟﯿﮯ ﺑﻐﯿﺮ ﮐﻮﺋﯽ ﭨﯿﮑﺲ ﻟﯿﮯ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﮐﻮ ﯾﮧ ﺑﺘﺎﻧﯽ ﺁﺗﯽ ﮨﮯ ﮐﮧ ﯾﮩﺎﮞ ﭘﺮ ﮔﻨﺪ ﮨﮯ ﺍﺱ ﮐﻮ ﺻﺎﻑ ﮐﺮ ﻟﻮ ﺗﻮ ﻣﯿﮟ ﭼﻠﯽ ﺟﺎﺅﮞ ﮔﯽ ﺍﻭﺭ ﺁﭖ ﺍﺳﮯ ﻣﺎﺭ ﺭﮨﮯ ﮨﯿﮟ ۔ ﺁﭖ ﭘﮩﻠﮯ ﺟﮕﮧ ﮐﯽ ﺻﻔﺎﺋﯽ ﮐﺮ ﮐﮯ ﺩﯾﮑﮭﯿﮟ ﯾﮧ ﺧﻮﺩﺑﺨﻮﺩ ﭼﻠﯽ ﺟﺎﺋﯽ ﮔﯽ ۔ ﺍﺷﻔﺎﻕ ﺍﺣﻤﺪ

Makhki

ﻣﯿﮟ ﻣﮑﮭﯽ ﻣﺎﺭﻧﮯ ﮐﯽ ﮐﻮﺷﺶ ﮐﺮ ﺭﮨﺎ ﺗﮭﺎ ۔ ﺍﺱ ﻟﯿﮯ ﻣﺠﮭﮯ ﺑﺎﺑﺎ ﺟﯽ ﮐﮯ ﺁﻧﮯ ﮐﺎ ﺍﺣﺴﺎﺱ ﮨﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺍ۔ ﺍﭼﺎﻧﮏ ﺍﻥ ﮐﯽ ﺁﻭﺍﺯ ﺳﻨﺎﺋﯽ ﺩﯼ ۔ﻭﮦ ﮐﮩﻨﮯ ﻟﮕﮯ ، ﯾﮧ ﺍﻟﻠﮧ ﻧﮯ ﺁﭖ ﮐﮯ ﺫﻭﻕِ ﮐﺸﺘﻦ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﭘﯿﺪﺍ ﮐﯽ ﮨﮯ ۔ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ ﺟﯽ ﯾﮧ ﻣﮑﮭﯽ ﮔﻨﺪ ﭘﮭﯿﻼﺗﯽ ﮨﮯ ﺍﺱ ﻟﯿﮯ ﻣﺎﺭ ﺭﮨﺎ ﺗﮭﺎ ۔ ﮐﮩﻨﮯ ﻟﮕﮯ ﯾﮧ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﮐﯽ ﺳﺐ ﺳﮯ ﺑﮍﯼ ﻣﺤﺴﻦ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺗﻢ ﺍﺳﮯ ﻣﺎﺭ ﺭﮨﮯ ﮨﻮ ۔ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ ﺟﯽ ﯾﮧ ﻣﮑﮭﯽ ﮐﯿﺴﮯ ﻣﺤﺴﻦ ﮨﮯ ؟ ﮐﮩﻨﮯ ﻟﮕﮯ ، ﯾﮧ ﺑﻐﯿﺮ ﮐﻮﺋﯽ ﮐﺮﺍﯾﮧ ﻟﯿﮯ ﺑﻐﯿﺮ ﮐﻮﺋﯽ ﭨﯿﮑﺲ ﻟﯿﮯ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﮐﻮ ﯾﮧ ﺑﺘﺎﻧﯽ ﺁﺗﯽ ﮨﮯ ﮐﮧ ﯾﮩﺎﮞ ﭘﺮ ﮔﻨﺪ ﮨﮯ ﺍﺱ ﮐﻮ ﺻﺎﻑ ﮐﺮ ﻟﻮ ﺗﻮ ﻣﯿﮟ ﭼﻠﯽ ﺟﺎﺅﮞ ﮔﯽ ﺍﻭﺭ ﺁﭖ ﺍﺳﮯ ﻣﺎﺭ ﺭﮨﮯ ﮨﯿﮟ ۔ ﺁﭖ ﭘﮩﻠﮯ ﺟﮕﮧ ﮐﯽ ﺻﻔﺎﺋﯽ ﮐﺮ ﮐﮯ ﺩﯾﮑﮭﯿﮟ ﯾﮧ ﺧﻮﺩﺑﺨﻮﺩ ﭼﻠﯽ ﺟﺎﺋﯽ ﮔﯽ ۔ ﺍﺷﻔﺎﻕ ﺍﺣﻤﺪ

Atograph

میں ایسے لوگوں کے آٹو گراف لینے کا خواھشمند ہوں جن پر دنیا کے جھمیلوں کا تشنج یا بوجھ نہیں ہے - میرے پاس جتنے بھی کاغذ ہیں ان پر دستخط توکم لوگوں کے ہیں مگر انگوٹھے زیادہ لوگوں نے لگائے ہیں -  کسی لکڑہارے کا انگوٹھا ہے - کسی ترکھان کا ہے - کسی قصائی کا ہے اور دیگر سخت سخت پیشے والوں کے انگوٹھے بھی ہیں -  ابھی تازہ تازہ میں نے جو انگوٹھا لگوایا ہے وہ میں نے لاہور سے قصور کے راستے کے درمیان میں آن ے والے چھوٹے سے شہر مصطفیٰ آباد للیانی سے لگوایا -  میرے منجھلے بیٹے کو پرندوں کا بڑا شوق ہے - اس نے گھر میں پرندوں کے دانے کھانے کے ایسے ڈبے لگا رکھے ہیں جن میں سے خود بخود دانے ایک ایک کر کے گرتے رہتے ہیں اور پرندے شوق سے آ کر کھاتے رہتے ہیں -  جب ہم قصور سے لاہور آ رہے تھے تو اس نے للیانی میں ایک دکان دیکھی جس میں پانچ پانچ کلو کے تھیلے پڑے ہوئے تھے - جن میں باجرہ اور ٹوٹا چاول بھرے ہوئے تھے اس نے مجھ سے کہا ابو یہ پرندوں کے لئے بہت اچھا دانا ہے - میرا بیٹا اس دکان سے چاول اور باجرہ لینے گیا تو اس نے پوچھا کے آپ کو یہ باجرہ کس مقصد کے لئے...

Muttaqi

~~~ متقی ~~~ وہ اپنی داڑھی میں انگلیوں سے کنگھی کرتے ہوئے کہ رہا تھا - " میں جانتا ہوں اسلم ساجد تمہارا اچھا دوست ہے - لیکن وہ مجھے ایک پل نہیں بھاتا - وہ نہایت بدتمیز جھوٹا ، مطلب پرست اور فریبی ہے - ہمیشہ دوسروں کی برائیاں گنواتا رہتا ہے - کیا وہ نہیں جانتا کسی کی پیٹھ پیچھے اس کی برائیاں بیان کرنا اپنے بھائی کا کچا گوشت کھانے کے مترادف ہے - مجھے دیکھو میں تو کسی کی برائی نہیں کرتا از ڈاکٹر اشفاق احمد ایک زخم اور سہی

rawaiye

ہمارے رویے بھی عحیب ہیں - رجوع اللہ کی طرف نہیں ہے ، اپنے معاملات اور خواہشات کی طرف زیادہ ہے - حالانکہ اللہ نے ہمیں جو پرچہ زندگی حل کرنے کے لیے دیا ھے اس کو حل کرنے کی ترکیب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعے ہمیں دے دی گئی ھے لیکن اسی مقام سے میری کوتاہی شروع ہو جاتی ہے کہ ہم اس ترکیب پر عمل نہیں کرتے- میں آپ سے بھی رائے لوں گا کہ میں اس کوتاھی سے باہر نکلنے کے لیے کیا کروں ؟ میں ڈاکٹر کی دی ھوئی دوائی استعمال کرتے وقت پرچہ ترکیب ضرور دیکھتا ھوں - پرچہ زندگی حل کرتے وقت خدا کے دیئے گئے احکامات یا دی گئی ترکیب کو نظر انداز کر دیتا ھوں " از اشفاق احمد، زاویہ 3 ، عنوان: "ڈبو اور کالو"

zavia baab 3 ilam pehm aur hosh

جو شخص اپنے اندر ہی اندر گہرا چلا جاتا ہے، وہی اوپر کو اٹھتا ہے اور وہی رفعت حاصل کرتا ہے۔ یہی قدرت کا اصول ہے۔ جو درخت جس قدر گہرا زمین کے اندر جائیگا، اسی قدر اوپر و جا سکے گا، اور اسی قدر تناور ہو گا۔ ہم اپنی ساری زندگی اوپر ہی اوپر، اپنے خول کو، اور اپنے باہر کو جاننے پر لگا دیتے ہیں۔ اور یہ بھول جاتے ہیں کہ اصل انسان ہمارے اندر رہتا ہے۔ جب میں اپنے اندر نگاہ مارتا ہوں تو اس کے اندر کچھ الفاظ، کچھ تصورات، کچھ خیال، کچھ یادیں، کچھ شکلیں اور کچھ خواب پاتا ہوں۔ زاویہ: 3، باب "علم فہم اور ہوش"، صفحہ 295 سے اقتباس

Ibadat...

زمانہ نے عجب پلٹا کھایا ہے ، پچھلے لوگ عبادت چھپ کر اس لیے کرتے تھے کہ کہیں شہرت نہ ہو جائے - اور اب اس لیے چھپا کر کرتے ہیں کہیں لوگ مذاق نہ اڑائیں -  از اشفاق احمد بابا صاحبا صفحہ ٦١٥

Samandar....

کہتے ہیں کہ ایک چھوٹی مچھلی نے بڑی مچھلی سے پوچھا "آپا یہ سمندر کہاں ہوتا ہے؟" اس نے کہا جہاں تم کھڑی ہو یہ سمندر ہے۔ اس نے کہا، آپ نے بھی وہی جاہلوں والی بات کی یہ تو پانی ہے، میں تو سمندر کی تلاش میں ہوں اور میں سمجھتی تھی کہ آپ بڑی عمر کی ہیں، آپ نے بڑا وقت گزارا ہے، آپ مجھے سمندر کا بتائیں گی۔ وہ اس کو آوازیں دیتی رہی کہ چھوٹی مچھلی ٹھرو، ٹھرو، میری بات سن کے جائو کہ میں کیا کہنا چاہتی ہوں لیکن اس نے پلٹ کر نہیں دیکھا اور چلی گئی۔ بڑی مچھلی نے کہا کہ کوشش کرنے کی، جدو جہد کرنے کی، بھاگنے دوڑنے کی کوئی ضرورت نہیں، دیکھنے کی اور straight آنکھوں کے ساتھ دیکھنے ضرورت ہے۔ مسئلے کے اندر اترنے کی ضرورت ہے۔ جب تک مسئلے کے اندر اتر کر نہیں دیکھو گے، تم اسی طرح بے چین و بے قرار رہوگے اور تمیں سمندر نہیں ملے گا۔ ۔ ۔ از اشفاق احمد۔ زاویہ۲۔ ص۔ ۱۵

Do bol muhabbat ke..

دو بول محبّت کے ایک دن میں اپنے پوتے سے کہ رہا تھا کہ " بلال میاں ، میں اپنے الله کو مان کے مرنا چاہتا ہوں -" وہ کہنے لگا کہ " بابا تم تو بہت اچھے آدمی ہو " میں نے کہا نہیں " مجھے میرے ابّا جی نہ کہا تھا کہ ایک الله ہوتا ہے - میں نے یہ بات مان لی اور الله کوئی ماننے لگا - " میں الله کو خود سے ڈائریکٹ ماننا چاہتا ہوں - بس خدا پر یقین کی ضرورت ہے ، میرے ابّا جی بتایا کرتے تھے کہ ایک دن ان کے ہاں دفتر میں کام کرنے والے ملازم کی تنخواہ چوری ہو گئی تو سب نے کہا کہ یار بڑا افسوس ہے - تو وہ کہنے لگے کہ " خدا کا شکر ہے نوکری تو ہے " ایک ماہ بعد خدا کا کرنا ایسا ہوا کہ اس کی نوکری بھی چلی گئی لوگوں اور ابا جی نے ان سے افسوس کیا تو کہنے لگے جی " خدا نے اپنا گھر دیا ہے ، اندر بیٹھ کر اچار روٹی کھالیں گے - الله کا فضل ہے - پرواہ کی کوئی بات نہیں - " یہ خدا کی طاقت تھی - مقدمے بازی میں کچ عرصے بعد اس کا گھر بھی فروخت ہو گیا - وہ پھر بھی کہنے لگا کہ " فکر نہیں میرے ساتھ میری بیوی ہے - یہ بیالیس سال کا ساتھ ہے - " بیوی فوت ہوئی تو...