Skip to main content

Posts

Showing posts with the label Maa(Mother)

Maa ka qaraz

ﺍﯾﮏ ﺑﯿﭩﺎ ﭘﮍﮪ ﻟﮑﮫ ﮐﺮ ﺑﮩﺖ ﺑﮍﺍ ﺁﺩﻣﯽ ﺑﻦ ﮔﯿﺎ. ﻭﺍﻟﺪ ﮐﯽ ﻭﻓﺎﺕ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﻣﺎﮞ ﻧﮯ ﮨﺮ ﻃﺮﺡ ﮐﺎ ﮐﺎﻡ ﮐﺮ ﮐﮯ ﺍﺳﮯ ﺍﺱ ﻗﺎﺑﻞ ﺑﻨﺎ ﺩﯾﺎ ﺗﮭﺎ. ﺷﺎﺩﯼ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺑﯿﻮﯼ ﮐﻮ ﻣﺎﮞ ﺳﮯ ﺷﮑﺎﯾﺖ ﺭﮨﻨﮯ ﻟﮕﯽ ﮐﮯ ﻭﮦ ﺍﻥ ﮐﮯ ﺳﭩﯿﭩﺲ ﻣﯿﮟ ﻓﭧ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﮯ. ﻟﻮﮔﻮﮞ ﮐﻮ ﺑﺘﺎﻧﮯ ﻣﯿﮟ ﺍﻧﮩﯿﮟ ﺣﺠﺎﺏ ﮨﻮﺗﺎ ﮐﯽ ﯾﮧ ﺍﻥ ﭘﮍﮪ ﺍﻥ ﮐﯽ ﻣﺎﮞ - ﺳﺎﺱ ﮨﮯ. ﺑﺎﺕ ﺑﮍﮬﻨﮯ ﭘﺮ ﺑﯿﭩﮯ ﻧﮯ ﺍﯾﮏ ﺩﻥ ﻣﺎﮞ ﺳﮯ ﮐﮩﺎ - "ﻣﺎﮞ .. ﻣﯿﮟ ﭼﺎﮨﺘﺎ ﮨﻮﮞ ﮐﮧ ﻣﯿﮟ ﺍﺏ ﺍﺱ ﻗﺎﺑﻞ ﮨﻮ ﮔﯿﺎ ﮨﻮﮞ ﮐﮧ ﮐﻮﺋﯽ ﺑﮭﯽ ﻗﺮﺽ ﺍﺩﺍ ﮐﺮ ﺳﮑﺘﺎ ﮨﻮﮞ. ﻣﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺗﻢ ﺩﻭﻧﻮﮞ ﺧﻮﺵ ﺭﮨﯿﮟ ﺍﺱ ﻟﯿﮯ ﺁﺝ ﺗﻢ ﻣﺠﮫ ﭘﺮ ﮐﺌﮯ ﮔﺌﮯ ﺍﺏ ﺗﮏ ﮐﮯ ﺳﺎﺭﮮ ﺍﺧﺮﺍﺟﺎﺕ ﺳﻮﺩ ﺳﻤﯿﺖ ﻣﻼ ﮐﺮ ﺑﺘﺎ ﺩﻭ. ﻣﯿﮟ ﻭﮦ ﺍﺩﺍ ﮐﺮ ﺩﻭﮞ ﮔﺎ. ﭘﮭﺮ ﮨﻢ ﺍﻟﮓ ﺍﻟﮓ ﺳﮑﮭﯽ ﺭﮨﯿﮟ ﮔﮯ. ﻣﺎﮞ ﻧﮯ ﺳﻮﭺ ﮐﺮ ﺟﻮﺍﺏ ﺩﯾﺎ !!! "ﺑﯿﭩﺎ _ ﺣﺴﺎﺏ ﺫﺭﺍ ﻟﻤﺒﺎ ﮨﮯ، ﺳﻮﭺ ﮐﺮ ﺑﺘﺎﻧﺎ ﭘﮍﮮ ﮔﺎ. ﻣﺠﮭﮯ ﺗﮭﻮﮌﺍ ﻭﻗﺖ ﭼﺎﮨﯿﮯ". ﺑﯿﭩﮯ ﻧﮧ ﮐﮩﺎ"-ﻣﺎﮞ ﮐﻮﺋﯽ ﺟﻠﺪﻱ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﮯ. ﺩﻭ ﭼﺎﺭ ﺩﻧﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺑﺎﺕ ﮐﺮﻧﺎ". ﺭﺍﺕ ﮨﻮﺋﯽ، ﺳﺐ ﺳﻮ ﮔﺌﮯ. ﻣﺎﮞ ﻧﮯ ﺍﯾﮏ ﻟﻮﭨﮯ ﻣﯿﮟ ﭘﺎﻧﯽ ﻟﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﺑﯿﭩﮯ ﮐﮯ ﮐﻤﺮﮮ ﻣﯿﮟ ﺁﺋﯽ. ﺑﯿﭩﺎ ﺟﮩﺎﮞ ﺳﻮ ﺭﮨﺎ ﺗﮭﺎ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺍﯾﮏ ﻃﺮﻑ ﭘﺎﻧﯽ ﮈﺍﻝ ﺩﯾﺎ. ﺑﯿﭩﮯ ﻧﮯ ﮐﺮﻭﭦ ﻟﮯ ﻟﯽ. ﻣﺎﮞ ﻧﮯ ﺩﻭﺳﺮﯼ ﻃﺮﻑ ﺑﮭﯽ ﭘﺎﻧﯽ ﮈﺍﻝ ﺩﯾﺎ. ﺑﯿﭩﮯ ﻧﮯ ﺟﺲ ﻃﺮﻑ ﺑﮭﯽ ﮐﺮﻭﭦ ﻟﯽ .. ﻣﺎﮞ ﺍﺳﯽ ﻃﺮﻑ ﭘﺎﻧﯽ ﮈﺍﻟﺘﯽ ﺭﮨﯽ ﺗﻮ ﭘﺮﯾﺸﺎﻥ ﮨﻮ ﮐﺮ ﺑﯿﭩﺎ ﺍﭨﮫ...

Maa keaue roti hay

اپنی ماں کے بہتے آنسو دیکھ کے اک معصوم سا لڑکا اپنی ماں کو چوم کے بولا پیاری ماں تو کیوں روتی ہے؟ ماں نے اس کا ماتھا چوما ،گلے لگایا،اس کے بالوں کو سہلایا گہری سوچ میں کھو کر بولی ’’کیونکہ میں اک عورت ہوں‘‘ بیٹا بولا،میں تو کچھ بھی سمجھ نہ پایا ماں مجھ کو کُھل کر سمجھاؤ اس کو بھینچ کے ماں یہ بولی ’’بیٹا تم نہ سمجھ سکو گے‘‘ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ شام ہوئی تو چھوٹا لڑکا،باپ کے پہلو میں جا بیٹھا باپ سے پوچھا’’ماں اکثر کیوں رو دیتی ہے‘‘ باپ نے اس کو غور سے دیکھا ،کچھ چکرایا،پھر بیٹے کو یہ سمجھایا ’’یہ عادت ہے ہر عورت کی،دل کی بات کبھی نہ کہنا فارغ بیٹھ کے روتے رہنا‘‘ باپ کا مُبلغ علم تھا اتنا ،بیٹے کو بتلاتا کیا اس کے سوا سمجھاتا کیا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ جب بچے نے ہوش سنبھالا علم نے اس کے ذہن و دل کو خوب اجالا اس نے اپنے رب سے پوچھا میرے مالک میرے خالق، آج مجھے اک بات بتا دے الجھن سی ہے اک سلجھا دے اتنی جلدی اتنی جھٹ پٹ ہر عورت کیوں رو دیتی ہے دیکھ کے اس کی ی...

Ansoon aur hechkion ki he sadayain reh gaye

آنسوؤں اور ہچکيوں کی ہی صدائيں رہ گيئں جسم پہ سايہ کيۓ ماں کی دعائيں رہ گئيں کتنا سونا ہو گيآ آنگن ميری ماں کے بغير سوچ کر، تصوير پر جم کر۔۔۔۔ نگاہيں رہ گئيں ميں اکيلا ہی نہيں رويا تمھاری ياد ميں چيختی ، چنگاڑتی پاگل ہوايئں رہ گيئں کس سے رکھوں گا ميں اب دنيا ميں اميد وفا ساتھ ہی تيرے دفن ہو کر ۔۔ وفائيں رہ گيئ ں

Maa

Maa ki dua

Hogaye jawan buchay buri hogai hay Maa

ہو گئے جواں بچے، بوڑھی ہو رہی ہے ماں بے چراغ آنکھوں میں خواب بو رہی ہے ماں روٹی اپنے حصّے کی دے کے اپنے بچوں کو صبر کی ردا اوڑھے،بھوکی سو رہی ہے ماں سانس کی مریضہ ہے پھر بھی ٹھنڈے پانی سے کتنی سخت سردی میں کپڑے دھو رہی ہے ماں غیر کی شکایت پر، پھر کسی شرارت پر مار کر مجھے، خود بھی رو رہی ہے ماں