Skip to main content

Posts

Kala rung

ایک شوہر نے اپنی بیوی سے کہا جس کا رنگ قدرتی کالا تھا۔ ”بیگم صاحبہ! اگر جان کی امان پاوٴں تو کچھ عرج کروں؟ بیوی بن کر بولی۔ ”جی حضور فرماےئے“ شوہر بولا۔ ”عرض یہ کہ آپ ہمیشہ منہ کھول کر ہنستی رہا کریں تا کہ آپ کے سفید دانتوں سے مجھے آپ کو ڈھونڈنے میں وقت پیش نہ آئے۔“

Sher ki shadi

جنگل میں شیر کی شادی ہو رہی تھی جب بارات چلنے لگی تو اچانک ایک چوہا بارات کے آگے آگے ناچنے لگا۔ شیر نے اس سے کہا۔”بھئی تم کیوں ناچ رہے ہو یہ کسی چوہے کی شادی تو نہیں ہے۔ چوہا بولا۔ شادی سے پہلے میں بھی شیر ہوا کرتا تھا۔“

Mammi dadi

”ایک روز ممی نے ڈیڈی کو باغ میں سے سبزی توڑ لانے کو کہا۔ ڈیڈی کے ہاتھ میں لمبے پھل کا چاقو تھا بدقسمتی سے ڈیڈی کا پیر پھسلا اور وہ اس طرح گرے کہ یتز دھار چاقو نے ان کی شہ رگ کاٹ دی۔“ اوہ بڑا افسوناک واقعہ تھا… پھر تمہاری امی نے کیا کیا؟ ”انہوں نے اس روز مجبوراً دال پکائی تھی۔“

Ghalti

Valentine day...  ایک گرم جوش شیدائی نے اپنی محبوبہ سے کہا۔ ”آوٴ ہم آزمائشی شادی کر لیں۔ اگر ہم نے محسوس کیا کہ ہم سے غلطی ہوئی ہے تو ہم کو الگ ہو جانے کا اختیار ہو گا۔“ محبوبہ نے کہا ”تمہاری تجویز بھی اچھی ہے۔ لیکن اس بے چاری غلطی کا کیا ہو گا؟“

Khobsurat aurat

ایک دفعہ بابا جی فرید رحمتہ اللہ علیہ اپنے سیلانی دور میں ایک بستی سے گزرے۔ دیکھا کہ ایک خوبصورت عورت ایک غریب عورت کو مار رہی ہے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بابا جی نے وجہ دریافت فرمائی ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اطلاع ملی کہ یہ امیر عورت ایک عشرت گاہ کی مالکہ ہے اور غریب اس کی ملازمہ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بلکہ مشاطہ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اس دن نوکرانی نے مالکن کو کاجل ڈالا اور اس کے ساتھ کوئی ریت کا ذرّہ بھی تھا جو اس کی خوبصورت آنکھوں میں بڑا تکلیف دہ لگا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اس لیے اس نے خادمہ کو مارا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بابا جی اپنے سفر پر گامزن ہو گئے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ایک مدت کے بعد واپسی کا سفر شروع ہوا اور اسی بستی کے قبرستان میں قیام کے دوران بابا جی نے ایک عجیب منظر دیکھا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ایک چڑیا نے ایک انسانی کھوپڑی میں اپنے بچے دیے ہوئے تھے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ وہ چڑیا آتی اور چونچ میں خوراک لا کر بچوں کو کھلاتی، لیکن ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بچے کھوپڑی کی آنکھوں سے باہر منہ نکالتے اور خوراک لے کر اندر چلے جاتے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ انسانی کھوپڑی کا یہ مصرف بابا جی کو عجیب سا لگا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ انہوں نے یہ دیکھنے کے لئے مراقبہ کیا کہ یہ کھوپڑی کس آدمی کی ہے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ انہیں ...

Dil khush kar data e

''دل خوش کر دتا ای'' شیخ تجمل حسین نے ایک ہوٹل میں اپنے اکلوتے لخت جگر کو ایک نہائت ہی کوبصورت اور طرحدار لڑکی کے ساتھ خوش گپیاں کرتے ہوئے دیکھا، انکے سامنے میز پر انواع و اقسام کے چائنیز اور دیسی کھانے چنے ہوئے تھے اور وہ خوشی کے عالم میں دعوت اڑا رہے تھے۔ شیخ صاحب نے جب اپنے ناہنجار بیٹے کو اپنی خون پسینے کی کمائی اس طرح ایک حسینہ پر لٹاتے دیکھا تو انہیں بہت غصہ آیا، انہوں نے خود ساری زندگی محنت کی اور صفر سے اپنا سفر شروع کیا اور آج وہ اللہ کے فضل سے شہر کے معروف بزنس ٹا ئیکون تھے۔ بہر حال جب رات گئے بیٹا گھر واپس آیا تو شیخ صاحب نے اسکی کلاس لینا شروع کی اور پہلے تو اسے اپنی معاشرتی اقدار پر سیر حاصل لیکچر دیا اور بعد ازاں استفسار کیا کہ سچ سچ بتاؤ کہ آج کی دعوت میں کتنے کا بل بنا؟ بیٹے نے جواب دیا 1500 روپے، شیخ صاحب کو یقین نہیں آیا اور کہنے لگے، میرے ساتھ جھوٹ نہیں چلے گا،،،،کھاؤ میرے سر کی قسم کہ صرف 1500 روپے خرچ ہوئے تھے، بیٹے نے بلا توقف کہنا شروع کیا،، ابا جی، آپکے اس گنجے سر کی قسم، اس بیچاری کے پاس صرف 1500 روپے ہی تھے ا...