Skip to main content

Posts

Kiran Kiran suraj

soch do tarha ki hote hay

سوچ دو طرح کی ہوتی ہے، ایک سوچ علم سے نکلتی ہے اور ریگستان میں جا کر سوکھتی ہے۔ دوسری سوچ وجدان سے جنم لیتی ہے اور باغ کے دہانے پر لے جاتی ہے۔ ان ہی دو قسم کے خیالات سے دو طرح کا رہنا سہنا جنم لیتا ہے۔ ایک رہنا سہنا علم اور تجویز سے جنم لیتا ہے، اس میں چاقو، چھری، مقدمہ، بحث مباحثے، کس بل، حق حقوق، چھینا جھپٹی، کرودھ، کام، ہنکار سب ہوتا ہے۔ دوسرا رہنا سہناایک اور قسم کی سوچ سے نکلتا ہے۔ اس میں وجدان، شانتی، امن، پرسچت، پریم کی وجہ سے ہمیشہ ہجرت کا سماں رہتا ہے۔ اسی وجدان کی وجہ سے ایسی سوچ والے لوگ غریبی میں امیر اور امیری میں غریب دکھائی دیتے ہیں۔ بانو قدسیہ

Mandakon ka badshah

ایک بار مینڈکوں نے خدا سے دعا کی کہ ہا پروردگار ہمارے لئے کوئی بادشاہ بھیج۔ باقی سب مخلوقات کے بادشاہ ہیں، ہمارا کوئی بھی نہیں ہے۔ خداوند نے انکی سادہ لوحی پر نظر کرتے ہوئے لکڑی کا ایک کندہ جوہڑ میں پھینکا۔ بڑے زوروں کے چھینٹے اڑے، پہلے تو سب ڈر گئے، تھوڑی دیر بعد یہ دیکھ کر کہ وہ لمبا لمبا پڑا ہے، ڈرتے ڈرتے قریب آئے۔ پھر اس پہ چڑھ گئے اور ٹاپنے لگے۔ چند دن بعد دوبارہ خداوند کو عرضی دی کی یہ بادشاہ ہمیں پسند نہیں آیا، کوئی اور بھیج جو ہمارے شایانِ شان ہو۔ خداوند نے ناراض ہو کر ایک سمندری سانپ بھیج دیا، وہ آتے ہی بہتوں کو چَٹ کر گیا، باقی کونے کھدروں میں جا چھپے۔ اس حکایت کا نتیجہ قارئین کرام آپ خود ہی نکالیے۔ آخر آپ خود بھی سمجھ دار ہیں۔ ۔۔۔ ابنِ انشاء ۔۔۔

Hisab ke char qaeday..

حساب کے چار بڑے قاعدے ہيں جمع، تفريق، ضرب، تقسيم پہلا قاعدہ : جمع جمع کے قاعدے پر عمل کرنا آسان نہيں خصوصا مہنگائي کے دنوں میں سب کچھ خرچ ہوجاتا ہے کچھ جمع نہيں ہوپاتا جمع کا قاعدہ مختلف لوگوں کيلئے مختلف ہے عام لوگوں کيلئے ١+١ = 1 1/2 کيونکہ 1/2 انکم ٹيکس والے لے جاتے ہيں تجارت کے قاعدے سے جمع کرائيں تو 1+1 کا مطلب ہے گيارہ رشوت کے قاعدے سے حاصل جمع اور زيادہ ہوجاتا ہے قاعدہ وہي اچھا جس ميں حاصل جمع زيادہ آئے بشرطيکہ پوليس مانع نہ ہو ايک قاعدہ زباني جمع خرچ کا ہوتا ہے يہ ملک کے مسائل حل کرنے کا کام آتا ہے آزمودہ ہے ۔۔۔ ابن انشاء ۔۔۔

Mohabbat....

محبت کی تعریف مشکل ہے۔ اس پر کتابیں لکھی گئی ہیں۔ افسانے رقم ہوئے، شعراء نے محبت کے قصیدے اور مرثیے لکھے. محبت کی کیفییات کا ذکر ہوا۔ وضاحتیں ہوئیں۔ لیکن محبت کی جامع تعریف نہ ہوسکی۔ محبت اِک بہت ہی پیارا اور اچھوتا سا لفظ ہے۔ یہ اِک ایسا لفظ ہے۔ جس نے انسان کو انسانیت سے متعارف کرایا۔ ♥محبت♥ انسان کی زندگی یکسر بدل کر رکھ دیتی ہے۔ ♥محبت♥ انقلابی بنا دیتی ہے۔  ♥محبت♥ ہمیں بلندیوں پر پرواز کرنے کے لیے پر عطا کرتی ہے۔  ♥محبت♥ کسی فرض فریضے کو نہیں جانتی۔ فرض تو اِک بوجھ ہوتا ہے۔ اِک تکلیف ہوتی ہے۔ ♥محبت♥ تو مسرت ہے، شراکت ہے۔ ♥محبت♥ تو بلا تکلف ہوتی ہے۔ ♥محبت♥ کوشش یا محنت سے حاصل نہیں ہوتی۔ یہ عطا ہے، نصیب ہے، بلکہ یہ بڑے ہی نصیب کی بات ہے۔ زمین کے سفر میں آگر کوئی چیز آسمانی ہے۔ تو وہ محبت ہے۔ سچ تو یہ ہے۔ کہ محبت سے آشنا ہونے والا شخص ہر طرف حُسن ہی حُسن دیکھتا ہے۔ اس کی زندگی نثر سے نکل کر شعر میں داخل ہو جاتی ہے۔ اندیشہ ہائے سود و زیاں سے نکل کر انسان جلوہء جاناں میں گم ہو جاتا ہے۔ اس کی تنہائی میں میلے ہوتے ہیں۔ وہ بے سبب ہنستا ہے اور روتا ہے بلا جواز۔ ♥محبت♥ قائم رہے تو...

jali noat

ایک صاحب جو جعلی نوٹ چھاپنے کا کام کرتے تھے، انہوں نے ایک دفعہ غلطی سے 10 کی بجائے 15 روپے کے نوٹ چھاپ دیئے۔ اب انہوں نے سوچا کہ شہر میں تو یہ چلیں گے نہیں، تو انہوں نے ایک پسماندہ دیہات کا رخ کیا۔ ایک چھوٹی سی دکان دیکھی، وہاں پر ایک بڑھیا بیٹھی ہوئی تھی، انہوں نے 15 کا نوٹ اسے دے کر کہا کہ 15 کا کھلا دے دیں۔ بڑھیا نے نوٹ دیکھا اور کہا، “ پُتر 14 ملیں گے۔“ . . . . . اس نے سوچا کہ 14 ہی غنیمت ہیں۔،۔۔۔ کہنے لگا چلو 14 ہی دے دو۔ . . بڑھیا اندر گئی اور سات سات کے دو نوٹ لا کر اس کے ہاتھ میں تھما دیئے۔۔۔ ہن دس،۔ وڈا تو ہوشیار۔۔۔۔۔

par dasi (wasif ali wasif)