Skip to main content

Posts

ye sub bekar batain han

یہ سب بیکار باتیں ہیں یہ سب بیکار باتیں ہیں یہ سب بے جان رسمیں ہیں فقط الفاظ جادو ہیں ُُمحبت کچھ نہیں ہوتی کسی کے مان جانے سے کوئی ہل چل نہیں ہوتی کسی کے روٹھ جانے سے کوئی جل تھل نہیں ہوتی کسی کا دل دکھانے سے کوئی بے کل نہیں ہوتی ُُمحبت کچھ نہیں ہوتی ُُمحبت کچھ نہیں ہوتی

Hawa ke sath darakhton ke rabty te buht

ہوا کے ساتھ درختوں کے رابطے تھے بہت تھا عکسِ ذات فقط ایک‘ آئینے تھے بہت تمہارے بعد تو سنسان ہو گیا ہے شہر عجیب دن تھے وہ‘ تم تھے تو رتجگے تھے بہت ہمیں نے ترکِ مراسم کی راہ اپنا لی یہ اور بات تعلق کے راستے تھے بہت سحر سے مانگ رہے ہیں وہ عکس خواب و خیال چراغِ شوق جلا کر جو سوچتے تھے بہت چھلک اُٹھے ہیں مرے صبر کے تموج سے رفاقتوں کے جو دریا اُتر گئے تھے بہت تھا جلوہ ریز مری خلوتوں میں اور کوئی یہ جب کی بات ہے‘ جب تم نے خط لکھے تھے بہت وہ تم نہیں تھے مگر ہوبہو وہ تم سا تھا اس اعتبار پہ کل رات بھی ہنسے تھے بہت لبوں پہ حرفِ صدا برف ہو گئے احمد طلوعِ مہر سے پہلے تو حوصلے تھے بہت

Usy kya khbr ke palak palak roshan sitara ghari rahe

اسے کیا خبر کہ پلک پلک روش ستارہ گری رہی اسے کیا خبر کہ تمام شب کوئی آنکھ دل سے بھری رہی کوئی تار تار نگاہ بھی تھی صد آئنہ، اسے کیا خبر کسی زخم زخم وجود میں بھی ادائے چارہ گری رہی میں اسیر شام قفس رہا مگر اے ہوائے دیارِ دل سرِ طاقِ مطلعِ آفتاب مری نگاہ دھری رہی سفر ایک ایسا ہوا تو تھا کوئی ساتھ اپنے چلا تو تھا مگر اس کے بعد تو یوں ہوا نہ سفر نہ ہم سفری رہی وہ جو حرفِ بخت تھا لوحِ جاں پہ لکھا ہوا، نہ مٹا سکے کفِ ممکنات پہ لمحہ لمحہ ازل کی نقش گری رہی ترے دشتِ ہجر سے آ چکے بہت اپنی خاک اڑا چکے وہی چاک پیرہنی رہا وہی خوئے دربدری رہی وہی خواب خواب حکایتیں وہی خالد اپنی روایتیں وہی تم رہے وہی ہم رہے وہی دل کی بے ہنری رہی خالد علیم