ہم کہ دشتِ جہاں کو آباد کیے بیٹھے ہیں
آرزوئے یار کو اب خاک کیے بیٹھے ہیں
خواب کے تار سے خواہش کو رفو کرتے
دامنِ دل کو اب چاک کیے بیٹھے ہیں
کاش وہ آئے جلائے یہاں کو ئی چراغ
دل کے دربار کو ہم طاق کیے بیٹھے ہیں۔
آرزوئے یار کو اب خاک کیے بیٹھے ہیں
خواب کے تار سے خواہش کو رفو کرتے
دامنِ دل کو اب چاک کیے بیٹھے ہیں
کاش وہ آئے جلائے یہاں کو ئی چراغ
دل کے دربار کو ہم طاق کیے بیٹھے ہیں۔
Ya les ka aashar han
ReplyDeleteUmerah Ahmed
DeleteThese lines in Amar Bail are just so Amazing...That these are reflection of Alizay Heart's Situation ♥️
ReplyDeleteWow Amazing
ReplyDeleteso nice >
ReplyDeleteHello I am noman
ReplyDeleteGirl or ante maried un maried har age ki girl frind ship k liya sms kare whatsap 0318 9971795
بہت خوبصورت انتخاب! یہ غزل پڑھ کر بہت لطف آیا، طرزِ تحریر اور الفاظ کا چناؤ بہترین ہے۔ خوبصورت تحریر شیئر کرنے کا شکریہ!
ReplyDeleteمیں بھی اردو کہانیوں اور تحریروں پر بلاگ لکھتی ہوں۔ اگر آپ کو وقت ملے تو میرا بلاگ بھی ضرور وزٹ کریں: https://marikahaniurd.blogspot.com