Skip to main content

Kuch dil ka laho pee ke bhi faslay hoye shadab


محسن نقوی

کچھ دل کا لہو پی کے بھی فصلیں ہوئیں شاداب
کچھ یوں بھی زمیں گاؤں کی زرخیز بہت ہے

بولے تو سہی، جھوٹ ہی بولے وہ بلا سے
ظالم کا لب و لہجہ ــــــــــ دل آویز بہت ہے

کیا اس کے خدوخال کھلیں اپنی غزل میں
وہ شہر کے لوگوں میں کم آمیز بہت ہے

محسنؔ اسے ملنا ہے تو دکھنے دو یہ آنکھیں
کچھ اور بھی جاگو کہ وہ "شب خیز" بہت ہے

Comments

Popular posts from this blog

Talkhiyan By Sahir Ludhianvi