تیرا خیال اگر جزو زندگی نہ رہے
جہاں میں میرے لیے کوئی دلکشی نہ رہے
میں آ گیا ہوں وہاں تک تیری تمنا میں
جہاں سے کوئی بھی امکان واپسی نہ رہے
تو ٹھیک کہتا ہے اے یار ٹھیک کہتا ہے
کہ ہم ہی قابل تجدید عاشقی نہ رہے
حضور یاد ہے میدان حشر کا وعدہ
کہیں وہاں بھی میری آنکھ ڈھونڈتی نہ رہے
تیرے ہجر کا موسم عذاب ہے محسن
کبھی کبھی تو میں کہتا ہوں زندگی نہ رہے
محسن نقوی
Comments
Post a Comment