Skip to main content

Ata hy yaad abhi bhi sarafa wo khwaab sa


آتا ہے یاد اَب بھی سراپا وہ خواب سا 

اترا جو میری تشنہ لبی پر سحاب سا 

اقرارِ مُدّعا پہ ٹھٹکتے ہوئے سے ہونٹ 

آنکھوں پہ کھنچ رہا تھا حیا کا نقاب سا 

اُس کو بھی اَن کہی کے سمجھنے میں دیر تھی 

کہنے میں کچھ مجھے بھی ابھی تھا حجاب سا 

تھی اُس سے جیسے بات کوئی فیصلہ طلب 

تھا چشم و گوش و لب کو عجب اضطراب سا 

تھا حرف حرف کیا وہ نگاہوں پہ آشکار 

منظر وہ کیا تھا مدِّمقابل کتاب سا 

ماجد نگاہ میں ہے وہ منظر ابھی تلک 

جب سطحِ آرزو پہ پھٹا تھا حباب سا


















Comments

Popular posts from this blog

Talkhiyan By Sahir Ludhianvi