اک دولتِ یقین تھی ، جو اب پاس بھی نہیں
لیکن یہاں کسی کو، یہ احساس بھی نہیں
برسوں سے ہم کھڑےہیں، اسی آئینے کے پاس
وہ آئینہ جو چہرے کا ، عکاس بھی نہیں
رنج والم کی اُس پہ ہے ، تحریر جا بجا
یہ زندگی جو صفحہ ، قرطاس بھی نہیں
ہر چند ہم نے مانگیں ، دُعائیں بہار کی
حالانکہ ہم کو موسمِ گُل، راس بھی نہیں
یادوں کا اک ہجوم ہے ، کیوں دل کے آس پاس
اب شہرِ دل کے بسنےکی ، تو آس بھی نہیں
جانے کہاں گئے وہ ، حویلی کے سب مکیں
آقا نہیں ، کنیز نہیں ، داس بھی نہیں
دیکھیں اگر تو پینے کو ، دریا بھی کم پڑیں
سوچیں فرح تو اتنی ہمیں ، پیاس بھی نہیں
فرح جعفری
Comments
Post a Comment