سب گناہوں سے الگ آنسو بہا کے ہو گئے
لوگ سارے کام کر کے پھر خدا کے ہو گئے
اُس نے بے معنی سی باتوں کو بھی معنی دے دیئے
لفظ جب ہونٹوں سے نکلے تو ہوا کے ہو گئے
ہم کہ تیرے عشق میں ٹوٹے بھی تھے بکھرے بھی تھے
تجھ سے نہ سمٹے تو تجھ سے بھی سوا کے ہو گئے
سب کی قسمت میں کہاں گر کر سنبھلنے کا عمل
وہ جو توبہ کے نہ ہو پائے خطا کے ہو گئے
بندگی کا تو قرینہ ہی نہیں آیا ہمیں
اُس خدا کو توڑ ڈالا جس خدا کے ہو گئے
اُن کی مجبوری تھی کہ اُن کو انا کا پاس تھا
ہم بھی تو کچھ کم نہ تھے، ہم بھی انا کے ہو گئے
٭٭٭
Comments
Post a Comment