Skip to main content

Sab gunahon se alag ansoo baha ke hogaye

سب گناہوں سے الگ آنسو بہا کے ہو گئے
لوگ سارے کام کر کے پھر خدا کے ہو گئے

اُس نے بے معنی سی باتوں کو بھی معنی دے دیئے
لفظ جب ہونٹوں سے نکلے تو ہوا کے ہو گئے

ہم کہ تیرے عشق میں ٹوٹے بھی تھے بکھرے بھی تھے
تجھ سے نہ سمٹے تو تجھ سے بھی سوا کے ہو گئے

سب کی قسمت میں کہاں گر کر سنبھلنے کا عمل
وہ جو توبہ کے نہ ہو پائے خطا کے ہو گئے

بندگی کا تو قرینہ ہی نہیں آیا ہمیں
اُس خدا کو توڑ ڈالا جس خدا کے ہو گئے

اُن کی مجبوری تھی کہ اُن کو انا کا پاس تھا
ہم بھی تو کچھ کم نہ تھے، ہم بھی انا کے ہو گئے
٭٭٭

Comments

Popular posts from this blog

Talkhiyan By Sahir Ludhianvi