Skip to main content

Akhtar sherwani



مشہور شاعر اختر شیرانی لاہور کے انارکلی بازار میں جوتوں کی مشہور دکان پر جوتے خریدنے گئے. دکان دار نے ان کے سامنے جوتوں کا ڈھیر لگا دیا. اختر شیرانی نے ایک ایک جوڑا دیکھا، مگر کوئی پسند نہیں آیا. قیمتوں پر بھی انہیں اعتراض تھا.
دکان دار طنزیہ لہجے میں بولا، "اتنے جوتے پڑے ہیں, آپ اب بھی مطمعن نہیں ہوئے؟"
اختر شیرانی ایک جوتا پہنتے ہوئے بولے، "بارہ روپے لیتے ہو یا اتاروں جوتا؟"

Comments

Popular posts from this blog

Talkhiyan By Sahir Ludhianvi