دھوبی
رشید احمد صدیقی
علی گڑھ میں نوکر کو آقا ہی نہیں ” آقائے نامدار “ بھی کہتے ہیں اور وہ لوگ کہتے ہیں جو آج کل خود آقا کہلاتے ہیں بمعنی طلبہ ! اس سے آپ اندازہ کر سکتے ہیں کہ نوکر کا کیا درجہ ہے ۔ پھر ایسے آقا کا کیا کہنا ” جو سپید پوش “ واقع ہو ۔ سپید پوش کا ایک لطیفہ بھی سن لیجئے ۔ اب سے دور اور میری آپ کی جان سے بھی دور ایک زمانے میں پولیس کا بڑا دور دورہ تھا اسی زمانہ میں پولیس نے ایک شخص کا بدمعاشی میں چالان کر دیا کلکٹر صاحب کے یہاں مقدمہ پیش ہوا ملزم حاضر ہوا تو کلکٹر صاحب دنگ رہ گئے ۔ نہایت صاف ستھرے کپڑے پہنے ہوئے صورت شکل سے مرد معقول،بات چیت نہایت ، نستعلیق کلکٹر صاحب نے تعجب سے پیش کار سے دریافت کیا کہ اس شخص کا بدمعاشی میں کیسے چالان کیا گیا دیکھنے میں تو یہ بالکل بدمعاش نہیں معلوم ہوتا ! پیشکار نے جواب دیا حضور ! تامل نہ فرمائیں یہ سفید پوش بدمعاش ہے ! “ ۔ لیکن میں نے یہاں سفید پوش کا لفظ اس لیے استعمال کیا ہے کہ میں نے آج تک کسی دھوبی کو میلے کپڑے پہنے نہیں دیکھا ۔ اور نہ اس کو خود اپنے کپڑے پہنے دیکھا ۔ البتہ اپنا کپڑا پہنے ہوئے اکثر دیکھا ہے بعضوں کو اس پر غصہ آیا ہوگا کہ ان کا کپڑا دھوبی پہنے ہو ۔ کچھ اس پر بھی جزبز ہو ئے ہوں گے کہ خود ان کو دھوبی کے کپڑے پہننے کا موقع نہ ملا میں اپنے کپڑے دھوبی کو پہنے دیکھ کر بہت متاثر ہوا ہوں ۔ کہ دیکھئے زمانہ ایسا آگیا کہ یہ غریب میرے کپڑے پہننے پر اتر آیا گو اس کے ساتھ یہ بھی ہے کہ اپنی قیمص دھوبی کو پہنے دیکھ کر میں نے دل ہی دل میں افتخار بھی محسوس کیا ہے ۔ اپنی طرف سے نہیں تو قمیص کی طرف سے ۔ اس لیے میرے دل میں یہ وسوسہ ہے کہ اس قمیص کو پہنے دیکھ کر مجھے در پردہ کسی نے اچھی نظر سے نہ دیکھا ہو گا ۔ ممکن ہے خود قمیص نے بھی اچھی نظر سے نہ دیکھا ہو ۔ دھوبیوں سے حافظ اور اقبال بھی کچھ بہت زیادہ مطمئن نہ تھے۔ مجھے اشعار یاد نہیں رہتے اور جویاد آتے ہیں وہ شعر نہیں رہ جاتے سہل ممتنع بن جاتے ہیں کبھی سہل زیادہ اور ممتنع کم اور اکثر ممتنع زیادہ اور سہل بالکل نہیں اقبال نے میرے خیال میں ( جس میں اس وقت دھوبی بسا ہوا ہے ) شاید کبھی کہا تھا:
آہ بیچاروں کے اعصاب پہ دھوبی ہے سوار!
یا حافظ نے کہا ہو :
فغان کین گاذران شوخ و قابل دار و شہر آشوب
Comments
Post a Comment