ضبط کر کے ھنسی کو بُھول گیا
میں تو اُس زخم ھی کو بُھول گیا
ذات در ذات ھمسفر رہ کر
اجنبی، اجنبی کو بُھول گیا
صبح تک وجہِ جانکنی تھی جو بات
میں اُسے شام ھی کو بُھول گیا
عہدِ وابستگی گزار کے میں
وجہِ وابستگی کو بُھول گیا
سب سے پُراَمن واقعہ یہ ھے
آدمی، آدمی کو بُھول گیا
یعنی تم وہ ھو، واقعی! حد ھے
میں تو سچ مُچ سبھی کو بُھول گیا
اب تو ھر بات یاد رھتی ھے
غالباً میں کسی کو بُھول گیا
اس کی خوشیوں سے جلنے والا جون
اپنی ایذا دھی کو بُھول گیا
Comments
Post a Comment