Skip to main content

Posts

Ata hy yaad abhi bhi sarafa wo khwaab sa

آتا ہے یاد اَب بھی سراپا وہ خواب سا  اترا جو میری تشنہ لبی پر سحاب سا  اقرارِ مُدّعا پہ ٹھٹکتے ہوئے سے ہونٹ  آنکھوں پہ کھنچ رہا تھا حیا کا نقاب سا  اُس کو بھی اَن کہی کے سمجھنے میں دیر تھی  کہنے میں کچھ مجھے بھی ابھی تھا حجاب سا  تھی اُس سے جیسے بات کوئی فیصلہ طلب  تھا چشم و گوش و لب کو عجب اضطراب سا  تھا حرف حرف کیا وہ نگاہوں پہ آشکار  منظر وہ کیا تھا مدِّمقابل کتاب سا  ماجد نگاہ میں ہے وہ منظر ابھی تلک  جب سطحِ آرزو پہ پھٹا تھا حباب سا

Dil ki hisaar ranj o alam se nikal de

دِل کو حصارِ رنج و اَلم سے نکال بھی  کب سے بِکھر رہا ہوں مجھے اب سنبھال بھی  آہٹ سی اُس حسین کی ہر سُو تھی‘ وہ نہ تھا  ہم کو خوشی کے ساتھ رہا اِک ملال بھی  سب اپنی اپنی موجِ فنا سے ہیں بے خبر  میرا کمالِ شاعری‘ تیرا جمال بھی  حسنِ اَزل کی جیسے نہیں دُوسری مثال  ویسا ہی بے نظیر ہے اُس کا خیال بھی!  مت پوچھ کیسے مرحلے آنکھوں کو پیش تھے  تھا چودھویں کا چاند بھی‘ وہ خوش جمال بھی  جانے وہ دن تھے کون سے اور کون سا تھا وقت!  گڈ مڈ سے اب تو ہونے لگے ماہ و سال بھی!  اِک چشمِ التفات کی پیہم تلاش میں  ہم بھی اُلجھتے جاتے ہیں‘ لمحوں کا جال بھی!  دنیا کے غم ہی اپنے لئے کم نہ تھے کہ اور  دل نے لگا لیا ہے یہ تازہ وبال بھی!  اِک سرسری نگاہ تھی‘ اِک بے نیاز چُپ  میں بھی تھا اُس کے سامنے‘ میرا سوال بھی!  آتے دنوں کی آنکھ سے دیکھیں تو یہ کھُلے  سب کچھ فنا کا رزق ہے ماضی بھی حال بھی!  تم دیکھتے تو ایک تماشے سے کم نہ تھا  آشفتگانِ دشتِ محب...

Ek dolat yaqeen thi jo ab paas bhi nahi

اک دولتِ یقین تھی ، جو اب پاس بھی نہیں لیکن یہاں کسی کو، یہ احساس بھی نہیں برسوں سے ہم کھڑےہیں، اسی آئینے کے پاس وہ آئینہ جو چہرے کا ، عکاس بھی نہیں رنج والم کی اُس پہ ہے ، تحریر جا بجا یہ زندگی جو صفحہ ، قرطاس بھی نہیں ہر چند ہم نے مانگیں ، دُعائیں بہار کی حالانکہ ہم کو موسمِ گُل، راس بھی نہیں یادوں کا اک ہجوم ہے ، کیوں دل کے آس پاس اب شہرِ دل کے بسنےکی ، تو آس بھی نہیں جانے کہاں گئے وہ ، حویلی کے سب مکیں آقا نہیں ، کنیز نہیں ، داس بھی نہیں دیکھیں اگر تو پینے کو ، دریا بھی کم پڑیں سوچیں فرح تو اتنی ہمیں ، پیاس بھی نہیں فرح جعفری 

Hijrat ki ghari agaye jana he parega

ہِجرت کی گھڑی آ گئی جانا ہی پڑے گا فُرقت بھرا یہ گِیت تو گانا ہی پڑے گا یہ زِندگی ہے یا کِسی بچّے کا کھِلونا ٹُوٹا ہی سہی ڈُھونڈ کے لانا ہی پڑے گا ہر روز نئی چوٹ بتا کیسے دبائیں دستور ہے یاں درد پُرانا ہی پڑے گا یہ درد زمانے سے چھپانا ہے لاحاصِل اب بِیچ صنم ایک زمانہ ہی پڑے گا میں راہِ وفا ہوں مُجھے منزِل کی خبر کیا جائو گے جہاں لوٹ کے آنا ہی پڑے گا اِک ہم ہیں جِنہیں قَولِ بلٰی یاد نہیں ہے اِک وہ ہے جِسے یاد دِلانا ہی پڑے گا ہم بھول چلے ہیں کِسی شاہد کی ادائیں اِحساس محبت کو جگانا ہی پڑے گا

Sab gunahon se alag ansoo baha ke hogaye

سب گناہوں سے الگ آنسو بہا کے ہو گئے لوگ سارے کام کر کے پھر خدا کے ہو گئے اُس نے بے معنی سی باتوں کو بھی معنی دے دیئے لفظ جب ہونٹوں سے نکلے تو ہوا کے ہو گئے ہم کہ تیرے عشق میں ٹوٹے بھی تھے بکھرے بھی تھے تجھ سے نہ سمٹے تو تجھ سے بھی سوا کے ہو گئے سب کی قسمت میں کہاں گر کر سنبھلنے کا عمل وہ جو توبہ کے نہ ہو پائے خطا کے ہو گئے بندگی کا تو قرینہ ہی نہیں آیا ہمیں اُس خدا کو توڑ ڈالا جس خدا کے ہو گئے اُن کی مجبوری تھی کہ اُن کو انا کا پاس تھا ہم بھی تو کچھ کم نہ تھے، ہم بھی انا کے ہو گئے ٭٭٭

Musbat soch

ایک دفعہ کا ذکر ھے کہ ایک بادشاہ نے ایک شہر میں بہت بڑا ایک تالاب بنوایا، اور پورے شہر میں اعلان کر دیا کہ اس تالاب میں روزانہ ہر آدمی ایک گلاس دودھ ڈالے گا۔ اور پھر اسے غریبوں میں بانٹا جائیگا۔ رات ھوئی تو ایک شخص نے اپنے گھر والوں سے کہا: " یہ شہر اتنا بڑا ھے کہ اگر ہر کوئی ایک گلاس ڈالنے لگ جائے تو پورا تالاب بھر جائیگا،اسلئے ھمارے نہ بھرنے سے کچھ نہیں ھو گا۔ " اسی طرح ہر گھر میں یہی سوچا گیا۔ اگلے دن صبح جب دیکھا تو تالاب بالکل خالی تھا۔ تب بادشاہ نے کہا : " دیکھا تم لوگوں نے کیسے تم لوگوں کی سوچ کیوجہ سے یہ تالاب بالکل خالی ھے،اگر ہر کوئی اپنی سوچ کو مثبت رکھتا تو یہ تالاب بھرا ھوا ھوتا۔ اگر ہر کوئی یہ نیکی سمجھ کر ایک گلاس اس تالاب میں ڈال دیتا تو یہ تالاب غریبوں کی بھوک مٹا سکتا تھا۔ " اگر ھم سب بھی اپنی اپنی سوچ کو ٹھیک کر لیں تو یہ دنیا امن کا ھہوارہ بن جائے، ہر کسی کے دل میں ایک دوسرے کیلئے محبت ھو،بس بات صرف ھماری سوچ کی ھے۔"

Na tha kuch to khuda ta kuch na hota to khuda hota

نہ تھا کچھ تو خدا تھا، کچھ نہ ہوتا تو خدا ہوتا ڈُبویا مجھ کو ہونے نے، نہ ہوتا میں تو کیا ہوتا ہُوا جب غم سے یوں بے حِس تو غم کیا سر کے کٹنے کا نہ ہوتا گر جدا تن سے تو زانو پر دھرا ہوتا ہوئی مدت کہ غالب مرگیا، پر یاد آتا ہے وہ ہر اک بات پر کہنا کہ یوں ہوتا تو کیا ہوتا