Skip to main content

Posts

Akhtar sherwani

مشہور شاعر اختر شیرانی لاہور کے انارکلی بازار میں جوتوں کی مشہور دکان پر جوتے خریدنے گئے. دکان دار نے ان کے سامنے جوتوں کا ڈھیر لگا دیا. اختر شیرانی نے ایک ایک جوڑا دیکھا، مگر کوئی پسند نہیں آیا. قیمتوں پر بھی انہیں اعتراض تھا. دکان دار طنزیہ لہجے میں بولا، "اتنے جوتے پڑے ہیں, آپ اب بھی مطمعن نہیں ہوئے؟" اختر شیرانی ایک جوتا پہنتے ہوئے بولے، "بارہ روپے لیتے ہو یا اتاروں جوتا؟"

Suit

واقعی ایسا ہے ؟؟؟  ایک مرد ہی مرد کی فطرت سمجھ سکتا ہے۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ گاہک "مجھے ایک لیڈیز سوٹ چاہیے۔" دکاندار "گھر والی کے لیے چاہیے یا پھر کوئی اچھا سا دکھاؤں۔"

Zabt kar ke hasni ko bhool gaya

ضبط کر کے ھنسی کو بُھول گیا میں تو اُس زخم ھی کو بُھول گیا ذات در ذات ھمسفر رہ کر اجنبی، اجنبی کو بُھول گیا صبح تک وجہِ جانکنی تھی جو بات میں اُسے شام ھی کو بُھول گیا عہدِ وابستگی گزار کے میں وجہِ وابستگی کو بُھول گیا سب سے پُراَمن واقعہ یہ ھے آدمی، آدمی کو بُھول گیا یعنی تم وہ ھو، واقعی! حد ھے میں تو سچ مُچ سبھی کو بُھول گیا اب تو ھر بات یاد رھتی ھے غالباً میں کسی کو بُھول گیا اس کی خوشیوں سے جلنے والا جون اپنی ایذا دھی کو بُھول گیا

Tere tarha malal mujay bhi nahi raha

تیری طرح ملال مجھے بھی نہیں رہا جا، اب ترا خیال مجھے بھی نہیں رہا تُو نے بھی موسموں کی پذیرائی چھوڑ دی اب شوقِ ماہ و سال مجھے بھی نہیں رہا میرا جواب کیا تھا تجھے بھی خبر نہیں یاد اب ترا سوال مجھے بھی نہیں رہا جس بات کا خیال نہ تُو نے کیا کبھی اُس بات کا خیال مجھے بھی نہیں رہا توڑا ہے تُو نے جب سے مرے دل کا آئینہ اندازہء جمال مجھے بھی نہیں رہا باقی میں اپنے فن سے بڑا پُرخلوص ہوں اس واسطے زوال مجھے بھی نہیں رہا*

Dhobi

دھوبی  رشید احمد صدیقی علی گڑھ میں نوکر کو آقا ہی نہیں ” آقائے نامدار “ بھی کہتے ہیں اور وہ لوگ کہتے ہیں جو آج کل خود آقا کہلاتے ہیں بمعنی طلبہ ! اس سے آپ اندازہ کر سکتے ہیں کہ نوکر کا کیا درجہ ہے ۔ پھر ایسے آقا کا کیا کہنا ” جو سپید پوش “ واقع ہو ۔ سپید پوش کا ایک لطیفہ بھی سن لیجئے ۔ اب سے دور اور میری آپ کی جان سے بھی دور ایک زمانے میں پولیس کا بڑا دور دورہ تھا اسی زمانہ میں پولیس نے ایک شخص  کا بدمعاشی میں چالان کر دیا کلکٹر صاحب کے یہاں مقدمہ پیش ہوا ملزم حاضر ہوا تو کلکٹر صاحب دنگ رہ گئے ۔ نہایت صاف ستھرے کپڑے پہنے ہوئے صورت شکل سے مرد معقول،بات چیت نہایت ، نستعلیق کلکٹر صاحب نے تعجب سے پیش کار سے دریافت کیا کہ اس شخص کا بدمعاشی میں کیسے چالان کیا گیا دیکھنے میں تو یہ بالکل بدمعاش نہیں معلوم ہوتا ! پیشکار نے جواب دیا حضور ! تامل نہ فرمائیں یہ سفید پوش بدمعاش ہے ! “ ۔ لیکن میں نے یہاں سفید پوش کا لفظ اس لیے استعمال کیا ہے کہ میں نے آج تک کسی دھوبی کو میلے کپڑے پہنے نہیں دیکھا ۔ اور نہ اس کو خود اپنے کپڑے پہنے دیکھا ۔ البتہ اپنا کپڑا پہنے ہوئے اکثر دیکھا ہے...