مشہور شاعر اختر شیرانی لاہور کے انارکلی بازار میں جوتوں کی مشہور دکان پر جوتے خریدنے گئے. دکان دار نے ان کے سامنے جوتوں کا ڈھیر لگا دیا. اختر شیرانی نے ایک ایک جوڑا دیکھا، مگر کوئی پسند نہیں آیا. قیمتوں پر بھی انہیں اعتراض تھا. دکان دار طنزیہ لہجے میں بولا، "اتنے جوتے پڑے ہیں, آپ اب بھی مطمعن نہیں ہوئے؟" اختر شیرانی ایک جوتا پہنتے ہوئے بولے، "بارہ روپے لیتے ہو یا اتاروں جوتا؟"
اُردو ادب،اُردوشاعری،افسانے کہانیاں،طنزومزاح اور بہت کچھ