Skip to main content

Posts

Jugnoo, Gohar, Charaagh, Ujaley Tou De Gaya

جگنو، گُہر، چراغ، اجالے تو دے گیا وہ خود کو ڈھونڈنے کے حوالے تو دے گیا اب اس سے بڑھ کے کیا ہو وراثت فقیر کی بچوں کو اپنی بھیک کے پیالے تو دے گیا اب میری سوچ سائے کی صورت ہے اُس کے گرد میں بجھ کے اپنے چاند کو ہالے تو دے گیا شاید کہ فصلِ سنگ زنی کچھ قریب ہے وہ کھیلنے کو برف کے گالے تو دے گیا اہلِ طلب پہ اُس کے لیے فرض ہے دُعا خیرات میں وہ چند نوالے تو دے گیا محسن اُسے قبا کی ضرورت نہ تھی مگر دُنیا کو روز و شب کے دوشالے تو دے گیا

Baaghi Men Aadmi Se, Na Munkir Khuda Ka Tha

باغی میں آدمی سے, نہ مُنکر خدا کا تھا درپیش مسئلہ مری اپنی اَنا کا تھا گُم صُم کھڑا تھا ایک شجر دشتِ خوف میں شاید وہ منتظر کسی اندھی ہَوا کا تھا اپنے دُھویں کو چھوڑ گیا آسمان پر بجھتے ہوئے دیے میں غرور انتہا کا تھا دیکھا تو وہ حسین لگا سارے شہر میں سوچا تو وہ ذہین بھی ظالم بلا کا تھا لہرا رہا تھا کل جو سرِ شاخِ بے لباس دامن کا تار تھا کہ وہ پرچم صبا کا تھا؟ ورنہ مکانِ ِتیرہ کہاں‘ چاندنی کہاں؟ اُس دستِ بے چراغ میں شعلہ حنا کا تھا میں خوش ہُوا کہ لوگ اکٹھے ہیں شہر کے باہر گلی میں شور تھا لیکن ہوا کا تھا اُس کو غلافِ روح میں رکھّا سنبھال کر محسن وہ زخم بھی تو کسی آشنا کا تھا  

Apne Ehsaas K Sab Rung Utar Jane Do

اپنے احساس کے سب رنگ اتر جانے دو میری امید میرے خواب بکھر جانے دو اپنے آنگن میں چراغوں کو جلائو نہ ابھی میرے آنگن میں سیاہ رات اتر جانے دو بڑی مشکل سےملا ہےمجھےمیرےگھرکاپتہ راستو ! اب تو نہ الجھو۔۔۔مجھے گھر جانے دو جن کے آنے کا بہت شور ہوا تھا ہر سو انہی لمحوں کو چپ چاپ گزر جانے دو میری بربادی کا الزام نہ آئے تم پر میرے حالات کو کچھ اور بگڑ جانے دو