29 Mar 2015

ہمہ وقت رنج و ملال کیا، جو گُزر گیا سو گُزر گیا



ہمہ وقت رنج و ملال کیا، جو گُزر گیا سو گُزر گیا
اُسے یاد کرکے نہ دل دُکھا،جو گُزر گیا سو گُزر گیا
 
نہ گِلہ کیا ، نہ خفا ہوئے ، یُو نہی راستے میں جدا ہوئے
نہ تُو بے وفا نہ میں بے وفا،جو گُزر گیا سو گُزر گیا
 
وہ غزل کی ایک کتاب تھا ،وہ گُلوں میں ایک گلاب تھا
ذرا دیر کا کوئی خواب تھا، جو گُزر گیا سو گُزر گیا
 
مُجھے پت جَھڑ کی کہانیاں ، نہ سُنا سُنا کے اُداس کر
تو خزاں کا پھول ہے مسکرا،جو گُزر گیا سو گُزر گیا
 
وہ اُداس دھوپ سمیٹ کر ،کہیں وادیوں میں اُتر چُکا
اُسے اب نہ دے میرے دل صدا،جو گُزر گیا سو گُزر گیا
 
یہ سفر بھی کتنا طویل ہے، یہاں وقت کتنا قلیل ہے
کہاں لوٹ کر کوئی آئے گا،جو گُزر گیا سو گُزر گیا
 
وہ وفائیں تھیں کہ جفائیں تھیں، نہ یہ سوچ کس کی خطائیں تھیں
وہ تیرا ہے اُس کو گلے لگا،جو گُزر گیا سو گُزر گیا
 
تجھے اعتبار و یقیں نہیں، نہیں، دنیا اتنی بڑی نہیں
نہ ملال کر،میرے ساتھ آ،جو گُزر گیا سو گُزر گیا

28 Aug 2014

Zehen se dil ka baar utra hy

 
    ذہن سے دل کا بار اترا ہے
    پیرہن تار تار اترا ہے

    ڈوب جانے کی لذّتیں مت پوچھ
    کون ایسے میں پار اترا ہے؟

    ترک مئے کر کے بھی بہت پچھتائے
    مدّتوں میں خُمار اترا ہے

    دیکھ کر میرا دشتِ تنہائی
    رنگِ رُوئے بہار اترا ہے

    پچھلی شب چاند میرے ساغر میں
    .......پے بہ پے، بار بار اترا ہے

Wo dil main mere ghaat laga kar he rahe ga



وہ دل میں مرے گھات لگا کر ہی رہے گا
جذبات میں ہلچل سی مچا کر ہی رہے گا

ہر بات میں تکرار کی عادت کے سبب وہ
رشتے میں کوئی چھید بنا کر ہی رہے گا

کہتا ہے، مجھے چاند کو چھونے کی ہے خواہش
اک روز زمیں پر اسے لا کر ہی رہے گا

کچا ہے گھروندا مرا، بادل بھی ہے ضد میں
لگتا ہے کوئی کام دکھا کر ہی رہے گا

گرتی ہے تو سو بار گرے، اُس کی بلا سے
وہ ریت کی دیوار بنا کر ہی رہے گا

شک روگ ہے یہ دل کو اگر چھو لے تو سمجھو
 ............ بُنیاد وہ اس گھر کی ہلا کر ہی رہے گا

Anchal ko ghonghat kar jana ab ke bar jo awo tum




آنچل کو گھونگٹ کر جانا اب کی بار جو آؤ تم
مانگ میں خود سیندور لگانا اب کی بار جو آؤ تم

کان کا بالا چھیڑ رہا ہے گال کو ہولے ہولے سے
اس کو محبت سے سجانا اب کی بار جو آؤ تم

دیکھ کے اپنی سونی کلائی، مَن میں ہوک سی اُٹھتی ہے
چوڑیاں اور کنگن پہنانا اب کی بار جو آؤ تم

نٹ کھٹ سکھیاں چھیڑتی ہیں کہ ساجن تم کو بھول گیا
دیکھو اُن کو خوب ستانا اب کی بار جو آؤ تم

کاگا چھت پر روز سے بولے، آنگن پھر بھی سُونا ہے
دیکھو اب واپس مت جانا اب کی بار جو آؤ تم

لٹ اُلجھی نے ماتھے کی بندیا کو بھی الجھا ڈالا
 ........ جُلمی، اس کو بھی سُلجھانا، اب کی بار جو آؤ تم

14 Feb 2014

Kala rung



ایک شوہر نے اپنی بیوی سے کہا جس کا رنگ قدرتی کالا تھا۔ ”بیگم صاحبہ! اگر جان کی امان پاوٴں تو کچھ عرج کروں؟ بیوی بن کر بولی۔ ”جی حضور فرماےئے“ شوہر بولا۔ ”عرض یہ کہ آپ ہمیشہ منہ کھول کر ہنستی رہا کریں تا کہ آپ کے سفید دانتوں سے مجھے آپ کو ڈھونڈنے میں وقت پیش نہ آئے۔“
Blogger Tips and TricksLatest Tips And TricksBlogger Tricks
Related Posts Plugin for WordPress, Blogger...