Khabi yaad awo to estarha By Mushtaq ahmad April 28, 2012 کبھی یاد آؤ تو اس طرح میرے آس پاس کنول کھلیں کبھی گنگناؤ تو اس طرح میرا درد پھر سے غزل بنے کبھی دل دُکھاؤ تو اس طرح میری دھڑکنیں بھی لرز اُٹھیں کبھی بھول جاؤ تو اس طرح !نہ سسک سکیں نہ بلک سکیں۔۔۔ Labels نظمیں Comments
Comments
Post a Comment