Skip to main content

Hogaye jawan buchay buri hogai hay Maa

ہو گئے جواں بچے، بوڑھی ہو رہی ہے ماں
بے چراغ آنکھوں میں خواب بو رہی ہے ماں


روٹی اپنے حصّے کی دے کے اپنے بچوں کو
صبر کی ردا اوڑھے،بھوکی سو رہی ہے ماں


سانس کی مریضہ ہے پھر بھی ٹھنڈے پانی سے
کتنی سخت سردی میں کپڑے دھو رہی ہے ماں


غیر کی شکایت پر، پھر کسی شرارت پر
مار کر مجھے، خود بھی رو رہی ہے ماں

Comments

Popular posts from this blog

Talkhiyan By Sahir Ludhianvi

lateefay