khabi yaad ao to es tarha By Mushtaq ahmad June 19, 2013 کبھی یاد آو تو اس طرح کہ دل و نظر میں سما سکو کبھی حد سے حبس جنوں بڑھے تو حواس بن کے بکھر سکو کبھی کھل سکو شب وصل میں کبھی خون دل میں سنور سکو سر رہگزر جو ملو کبھی نہ ٹھہر سکو ...نہ گزر سکو Labels نظمیں Comments
Comments
Post a Comment