Skip to main content

Apne chehre pe zulfain ghira dijaye

اپنے چہرے پہ زلفیں گرا دیجئے
دھوپ کو سائباں میں چھپا دیجئے
غم گساری کو دامن بڑھا دیجئے
آنسوؤں کو نگینے بنا دیجئے
کیا ہے میری خطا یہ بتا دیجئے
پھر مجھے جو بھی چاہے سزا دیجئے
اپنے جلوؤں کی جنت دکھا دیجئے
عشقِ لا چار کو حوصلہ دیجئے
یاد کی سیڑھیوں سے اتر کر کبھی
میرا شانہ پکڑ کر ہِلا دیجئے
نرمہاتھوں سے چھو کر مرےہاتھ کو
میری نس نس میں کلیاں کھِلا دیجئے
چاندنی بن کے دل میں اُتر آئیے
میرے آنگن کی رونق بڑھا دیجئے
یاد کی کھڑکیاں کھل رہی ہیں صنم
اپنی خوشبو ہوا میں ملا دیجئے
حجرۂ دل زمانے سے ویران ہے
اپنی تصویر اِس میں سجا دیجئے
روٹھ جائیں کبھی مان جائیں کبھی
کچھ مٹا دیجئے کچھ بنا دیجئے
مجھ کو دنیا کی دولت سے مطلب نہیں
اپنے دل میں ذرا سی جگہ دیجئے
وقت کی دھوپ میں جل رہا ہے بدن
اپنے آنچل کی ٹھنڈی ہوا دیجئے
مدتوں سے مچلتا ہے سینے میں دل
آج اطیب کی حسرت مٹا دیجئے

Comments

Popular posts from this blog

Talkhiyan By Sahir Ludhianvi

lateefay