Skip to main content

Kaam zuban se he lety hain sary mazhab logh


کام زُباں سے ہی لیتے ہیں سارے مہذب لوگ

طَنز کا اک نشتر کافی ہے پتھر وتھر کیا


اول تو ہم پیتے نئیں ہیں, گر پینا ٹھہرے

تیری آنکھوں سے پی لیں گے ساغر واغر کیا


جیون اک چڑھتا دریا ہے ڈوب کے کر لے پار

اس دریا میں کشتی وشتی, لنگر وَنگر کیا


مال وال کس شمار میں ہے, جان وان کیا شئے

سر میں سودا سچ کا سما جائے تو سَر وَر کیا


تُجھ کو دیکھا جی بھر کے اور آنکھیں ٹھنڈی کر لیں 

گُل وُل کیا، گُلشن کیا، اور مَنظر وَنظر کیا


زیب کہو اللہ کرے فِردوسِ بریں میں مکاں 

شعر ویر یہ غزل وزل کیا مُضطروَضطر کیا 

Comments

Popular posts from this blog

Talkhiyan By Sahir Ludhianvi

lateefay