Skip to main content

Ek bhori awrat



ایک بوڑھی عورت تھی جو تندور پر روٹیاں پکاتی تھی ایک رات ایسا ہوا کہ 
وہ سوئی اور خواب میں اللہ کا دیدار ہو گیا ایک نور چمکا اس نے پوچھا کون فرمایا تمہارا رب ہوں اَسی سال کی بوڑھی منہ میں دانت نہیں اور بال بھی سفید۔۔
 پوچھا مانگ کیا مانگتی ہے کہا مجھ جیسی گنہگارہ پہ اتنا کرم کہ رب خواب میں آگیا کیا مانگوں کچھ نہیں چاہئے فرمایا ہم تو کچھ دینگے مانگ۔بولی دینا ہی چاہتا ہے   تواولاد بھی نہیں شادی بھی نہیں ہوئی دولت بھی نہیں چاہیے دن میں دو روٹی کھاتی ہوں تو ہی تو دیتا ہے یہ ٹوٹی پھوٹی جھونپڑی بھی ہے سر چھپا لیتی ہو تو پھر کیا چاہیے لیکن تو بار بار کہہ رہا ہے کہ کیا چاہیے مانگ تو مانگ لیتی ہوں۔
تو بس تم مہمان بن کر آؤ میں تمہارے واسطے روٹی پکاؤگی تم کھاؤ اور چلے جاؤ فرمایا اچھا ہم کل آئیں گے صبح بوڑھی عورت اٹھی پورے گاؤں میں کہتی پھیرے ہمارے گھر تو اللہ آرہے ہیں میں دعوت پکا رہی ہو جو دیکھ کے بولے پاگل ہو گئی ہو تم تندور کی گرمی سر چڑھ گئی ہے بوڑھی ہوگئی ہے پاگل کیسی باتیں کرتی ہے اللّہ آئگا کہاں ذات باری تعالیٰ اس کی مثل نہیں ہے سارے گاؤں کے لوگ بوڑھی کو پاگل پاگل کہنے لگے لیکن یہ نہیں جانتے تھے کہ پاگل اسے کہتے ہیں جو بات کو پالے سارا دن روٹیاں لگا کے وہ فارغ ہوئی تو سر شام آخر میں دو روٹیاں اللہ کی پکائیں اور ایک روٹی وہ خود کھاتی تھی تو اس نے اپنے لیے پکائیں بار بار اللہ والی روٹیوں کو دیکھتی تھیں تو اپنی اس کی روٹی جل گئی اور وہ جلدی سے وہ روٹیاں لی اور گھر آ گئی اور تھوڑا سا گوشت جو اس لے کے پکایا تھا پرانے سابوریا لیا اور ایک مٹی کے پیالے میں پانی ڈالا اور انتظار کرنے بیٹھ گئی ایسی بیچ مغرب گزر گئی عشاء بھی گزر گئی تھوڑی دیر کے بعد عشاء کے بعد دروازے پر دستک ہوئی پاگلوں کی طرح اٹھتی اور کہنے لگی اللہ آگیا اللہ آگیا جیسی دروازے پر پہنچی تو ایک فقیر کھڑا تھا اس نے بولا روٹی چاہیے بہت بھوک لگی ہے تو اس نے کہا کہ آج تو روٹی نہیں ہے آج ہمارے ہاں اللہ کی دعوت ہے فقیر نے کہا کیا اللہ بھی روٹی کھاتا ہے وہ تو بڑا بے نیاز ہے وہ تو سارے جہاں کو کھلاتا ہے وہی نہیں اس فقیر کی بات سنی اور کہا کہ چلو میں تمہیں اپنے والی روٹی دے دیتی ہوں اس نے اپنی والی جلی ہوئی روٹی فقیر کو دے دی اور فقیر چلا گیا آؤ پھر آکے انتظار کرنے بیٹھ گئی رات گزرتی گئی لیکن کوئی بھی نہیں آیا رونےلگی چلانے لگی اؤر زور سے کھینچ کر بوریے کو پکڑ کر پھینکا سالن در روٹی ادھر گرگئی روتے روتے آنکھ لگی تو ایک نور روشن ہوا نور چمکا فرمایا ہم تمہارے رب ہیں اس نے منہ دوسری طرف پھیر لیا اور بولی مجھے بات نہیں کرنی میں ناراض ہوں تم نے کہا تھا کہ میں آؤں گا لیکن تم نہیں آئے فرمایا اپنے آنسو پونچھو ہم نے اپنا وعدہ پورا کیا ہم آئے تھے اس نے بولا کہ نہیں آئے میں نے تو سنا تھا کہ تو کسی کی زیادہ غلط بیانی نہیں کرتا لیکن آپ نے میرے ساتھ کی یہ بات تو اس نے اپنے علم کے مطابق کی وہ کوئی عالم یا فاضلہ تو نہیں تھی تو فرمایا کہ میں اس کی دلیل تمہیں دیتاہوں تو اللہ نے وہ جلی ہوئی روٹی اس کے سامنے کردی تو اس نے کہا یہ تو میں نے فقیر کو دی تھی وہ تو فقیر آیا تھا تو فرمایا ہم جس سے بھی ملتے ہیں اسی طرح ملتے ہیں۔

Comments

Popular posts from this blog

Talkhiyan By Sahir Ludhianvi

lateefay