Skip to main content

Posts

janta hun ke mera dil mere pehlo main nahi

جانتا ہوں کہ مرا دل مرے پہلو میں نہیں پھر کہاں ہے جو ترے حلقۂ گیسو میں نہیں ایک تم ہو کہ تمہارے ہیں پرائے دل بھی ایک میں ہوں کہ مرا دل مرے قابو میں نہیں دور صیّاد، چمن پاس، قفس سے باہر ہائے وہ طاقتِ پرواز کہ بازو میں نہیں دیکھتے ہیں تمہیں جاتے ہوئے اور جیتے ہیں تم بھی قابو میں نہیں، موت بھی قابو میں نہیں حیف جس کے لیے پہلو میں نہ رکھا دل کو کیا قیامت ہے کہ فانی وہی پہلو میں نہیں (فانی بدایونی)

hath chotega bhi to rishte nahi chorra karte

ہاتھ چھوٹیں بھی تو رشتے نہیں چھوڑا کرتے وقت کی شاخ سے لمحے نہیں توڑا کرتے جس کی آواز میں سِلوٹ ہو، نگاہوں میں شکن ایسی تصویر کے ٹکڑے نہیں جوڑا کرتے لگ کے ساحل سے جوبہتا ہے اُسے بہنے دو ایسے دریا کا کبھی رُخ نہیں موڑا کرتے جاگنے پر بھی نہیں آنکھ سے گرتیں کرچیں اس طرح خوابوں سے آنکھیں نہیں پھوڑا کرتے شہد جینے کا مِلا کرتا ہے تھوڑا تھوڑا جانے والوں کیلئے دِل نہیں تھوڑا کرتے جمع ہم ہوتے ہیں ، تقیسم بھی ہوجاتے ہیں ہم تو تفریق کے ہندسے نہیں جوڑا کرتے جاکے کہسار سے سرمارو کہ آواز تو ہو خستہ دِیواروں سے ماتھا نہیں پھوڑا کرتے ! --

Muhabbaton ka hesab ta na adawaton ka shumar tha

محبتوں کا حساب تھا نا عداوتوں کا شمار تھا کبھی اس کی ذات عذاب تھی ، کبھی روح کا وہ قرار تھا میری پیاس اتنی ہی بڑھ گئی کے سراب جتنے ملے مجھے ہوا دھوکہ جس پے گلاب کا وہ سلگتا ، جلتا شرار تھا اسے میں نے مُڑ کر صدا نا دی کے پلٹ گیا تھا وہ راہ سے میں خزاں ہوا تو پتہ چلا ، میری ذات کا وہ نکھار تھا تُو بھی دور ہے ، میں بھی دور ہوں ، کیوں الگ ہوئے یہ راستے تیری چاہتوں کا گریز تھا یا میری انا کا حصار تھا وہ اگر کسی کو ملے کہیں تو کوئی بتا دے اسے ذرا میرے فن شعر کی بے خودی ، تیرے عشق ہی کا خمار تھا

Quran majeed

ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺑﮍﯼ ﮐﻮﺷﺶ ﮐﯽ ﮐﮧ ﻗﺮﺁﻥ ﭘﮍﮪ ﮐﺮ ﺧﻮﺩ ﮐﻮ ﺳﻨﯽ ﺛﺎﺑﺖ ﮐﺮﻭﮞ ﻣﮕﺮ ﻧﺎﮐﺎﻡ ﺭﮨﺎ. ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺗﻤﺎﻡ ﻗﺮﺍﻧﯽ ﺳﻮﺭﺗﯿﮟ ﭘﮍﮬﯿﮟ ﻣﮕﺮ ﻣﺠﮭﮯ ﻧﮧ ﮐﻮﺋﯽ ﺷﯿﻌﮧ ﻣﻼ، ﻧﮧ ﺑﺮﯾﻠﻮﯼ، ﻧﮧ ﺩﯾﻮﺑﻨﺪﯼ ﺍﻭﺭ ﻧﮧ ﮨﯽ ﺍﮨﻠﺤﺪﯾﺚ. ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﮐﻮﺷﺶ ﮐﯽ ﮐﮧ ﺍﺳﻮۂ ﺣﺴﻨۂ ﮐﻮ ﭘﮍﮪ ﮐﺮ ﺍﭘﻨﮯ ﺁﭖ ﮐﻮ ﮐﺴﯽ ﻓﺮﻗﮯ ﺳﮯ ﺟﻮﮌﻭﮞ ﻣﮕﺮ ﯾﮩﺎﮞ ﺑﮭﯽ ﻣﺠﮭﮯ ﻧﺎﮐﺎﻣﯽ ﮨﻮﺋﯽ. ﮨﺮ ﺟﮕﮧ ﻣﺎﺳﻮﺍﺋﮯ ﺍﯾﮏ ﻣﺴﻠﻤﺎﻥ(ﻣﺴﻠﻢ) ﮐﮯ ﺍﭘﻨﯽ ﮐﻮﺋﯽ ﺩﻭﺳﺮﯼ ﭘﮩﭽﺎﻥ ﻧﮧ ﻣﻠﯽ. ﺍﮔﺮ ﻓﺮﻗﮯ ﮐﺎ ﮐﮩﯿﮟ ﺫﮐﺮ ﺁﯾﺎ ﺑﮭﯽ ﺗﻮ ﺭﺩ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﮯ ﺍﻧﺪﺍﺯ ﻣﯿﮟ، ﺍﯾﮏ ﮔﻨﺎﮦ، ﺍﯾﮏ ﺗﻨﺒﯿﮧ ﮐﯽ ﺣﯿﺜﯿﺖ ﺳﮯ. ﺍﻥ ﺳﺐ ﻭﺍﺿﺢ ﺍﺣﮑﺎﻣﺎﺕ ﮐﮯ ﺑﺎﻭﺟﻮﺩ ﺁﺝ ﮨﻢ ﻣﺴﻠﻤﺎﻥ ﮐﮯ ﻋﻼﻭﮦ ﺳﺐ ﮐﭽﮫ ﮨﯿﮟ. ﮨﻢ ﻓﺮﻗﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺍﺱ ﺑﺮﮮ ﻃﺮﺡ ﺑﭧ ﮔﺌﮯ ﮐﮧ ﮨﻤﺎﺭﯼ ﺍﺻﻞ ﺷﻨﺎﺧﺖ ﮨﯽ ﮔﻢ ﮨﻮ ﮔﺌﯽ. ﺍﻧﺼﺎﺭ ﻋﺒﺎﺳﯽ ﮐﮯ ﮐﺎﻟﻢ ﺳﮯ.